سبق: عبدالستار ایدھی ، خلاصہ، سوالات و جوابات

Back to: Model Darsi Kitab Urdu Class 8 | Chapterwise Notes

سبق ” عبدالستار ایدھی “

سبق کا خلاصہ:
اس سبق میں عبدالستار ایدھی کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ آپ یکم جنوری 1928ء کو پیدا ہوئے۔اس ملک میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والوں کے نام تو انگلیوں پہ گنے جا سکتے ہیں مگر عبدالستار ایدھی نے جس طرح ملک و ملت اور انسانیت کی خدمت کی اس کی نظیر نہیں ملتی۔انسان کو چونکہ ایک معاشرہ بنا کر رہتا ہوتا ہے اس لیے انسان ایک سماجی حیوان کہلاتا ہے۔دنیا کا کوئی انسان اکیلے زندگی نہیں گزار سکتا۔ اُسے اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے ایک معاشرے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
ایک اچھے معاشرے کی بنیادی خصوصیات میں خدمت خلق ، عدل و انصاف، بھائی چارہ، ایثارو قربانی ، سادگی اور اخلاقیات شامل ہیں۔خالق کا ئنات کی مخلوق کے کام آنا کسی طرح بھی عبادت سے کم نہیں ہوتا۔ اللہ رب العزت کے نزدیک سب سے اچھا عمل اس کے بندوں کی خدمت کرتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے حقوق العباد پر خصوصی احکامات صادر فرمائے ہیں۔ جو انسان دوسروں کی تکلیف، پریشانی اور مصیبت دور کرنے کی سعی و کوشش کرتا ہے، اللہ تعالی دنیا و آخرت میں اس کا بول بالا کرتا ہے۔
فرشتے سے بہتر انسان بننا ہے مگر اس میں محنت زیادہ لگتی ہے۔عبد الستار ایدھی نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کیا۔عبدالستار ایدھی کو اپنی والدہ سے سے والہانہ محبت تھی جس کے عملی اظہار کے لیے انھوں نے اپنے آپ کو انسانی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ آغاز میں عبدالستار ایدھی نے اپنی تمام جمع پونچی ایک چھوٹی سی ڈسپنسری کے قیام میں خرچ کر دی۔
۱۹۵۷ء میں کراچی میں وسیع پیمانے پر پھیلنے والی لوکی وبا کے دوران میں عبد الستار ایدھی نے بڑھ چڑھ کر خدمات سرانجام دیں۔ آپ کے بے لوث جذ بے خدمت خلق کو دیکھتے ہوئے ملک کے طول و عرض سے مخیر حضرات نے آپ کی مالی معاونت فرمائی اور یہی عبدالستار ایدھی فاؤنڈیشن کے قیام کا اولین لمحہ ثابت ہوا۔ عبدالستار ایدھی کو اپنی والدہ کی خدمت کا ثمر اسی دنیا میں مل گیا اور انھیں اقوام عالم میں وہ مقام حاصل ہوا کہ جس کی حسرت ہر انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ لوگوں نے آپ کو سر آنکھوں پر ببٹھایا اور حکومت کے کرنے کے کام آپ نے تنہا ہی کر ڈالے۔
سیلاب ہو یا زلزلہ جیسی آفات آپ ہر مشکل گھڑی میں سب سے آگے رہے۔نہ صرف پاکستان بلکہ آپ نے اپنی تنظیم کی شاخیں دنیا بھر میں پھیلا دیں۔ایدھی فاؤنڈیشن جن ممالک میں خدمات سر انجام دے رہی ہے ان میں افغانستان، عراق، چیچنیا، بوسنیا، سوڈان، ایتھوپیا جیسے ممالک شامل ہیں۔ عبدالستار ایدھی کی سماجی خدمات کے اعتراف میں 1982ء میں رامون ماکسی ایوارڈ 1988ء میں لینن ایوارڈ اور1989ءمیں حکومت پاکستان کی طرف سے نشان امتیاز عطا کیا گیا۔
ان کے علاوہ بھی متعدد ملکی اور غیرملکی اداروں نے عبدالستار ایدھی کر سماجی خدمات کے اعتراف میں انھیں اعزازات سے نوازا۔ایدھی فاؤنڈیشن کا نیٹ ورک پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے۔ آج ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس چھے سو سے زائد ایمبولینسز موجود ہیں جو شب و روز انسانیت کی خدمت کے لیے مصروف عمل ہیں۔ ہسپتال اور ایمبولینس کی خدمات کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن کے زیر انتظام کئی کلینک، زچگی مرکز ، پاگل خانے ، بلڈ بینک پناہ گاہیں اور خدمتِ انسانی کے کئی نراکز موجود ہیں۔
عالمی سطح پر شہرت حاصل کرنے کے باوجود عبد الستار ایدھی نے سادہ زندگی کو ترک نہیں کیا ۔ سادہ روایتی شلوار قمیض پہنا کرتے تھے۔ جوتوں کا ایک جوڑا کئی کئی سال آپ کے زیر استعمال رہتا۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے لاکھوں روپے کے بجٹ سے اپنی ذات پر ایک روپیہ خرچ کرنا بھی اپنے لیے حرام سمجھتے تھے۔ ۸ جولائی ۲۰۱۶ء کو عبدالستار ایدھی کی طبیعت شام پانچ بجے کے قریب شدید خراب ہوئی۔ آپ کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں رات گیارہ بجے ۸۸ سال کی عمر میں وہ اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ انھوں نے مرنے سے قبل یہ وصیت کی تھی کہ ان کی دونوں آنکھیں کسی ضرورت مند کو عطیہ کر دی جائیں۔ یوں ساری زندگی

مندرجہ ذیل سوالات کے جواب لکھیں۔
عبد الستار ایدھی کب پیدا ہوئے اور آپ نے کب وفات پائی ؟
عبدالستار ایدھی یکم جنوری 1928ء کو پیدا ہوئے اور 8 جنوری 2016ء میں وفات پائی۔
عبد الستار ایدھی نے خدمت خلق کا کام کس انداز میں شروع کیا ؟
عبدالستار ایدھی کو اپنی والدہ سے سے والہانہ محبت تھی جس کے عملی اظہار کے لیے انھوں نے اپنے آپ کو انسانی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ آغاز میں عبدالستار ایدھی نے اپنی تمام جمع پونچی ایک چھوٹی سی ڈسپنسری کے قیام میں خرچ کر دی۔ ۱۹۵۷ء میں کراچی میں وسیع پیمانے پر پھیلنے والی لوکی وبا کے دوران میں عبد الستار ایدھی نے بڑھ چڑھ کر خدمات سرانجام دیں۔ آپ کے بے لوث جذ بے خدمت خلق کو دیکھتے ہوئے ملک کے طول و عرض سے مخیر حضرات نے آپ کی مالی معاونت فرمائی اور یہی عبدالستار ایدھی فاؤنڈیشن کے قیام کا اولین لمحہ ثابت ہوا۔ عبدالستار ایدھی کو اپنی والدہ کی خدمت کا ثمر اسی دنیا میں مل گیا اور انھیں اقوام عالم میں وہ مقام حاصل ہوا کہ جس کی حسرت ہر انسان کے دل میں ہوتی ہے۔
عبد الستارایدھی کو کن کن اعزازت سے نوازا گیا؟
ایدھی فاؤنڈیشن جن ممالک میں خدمات سر انجام دے رہی ہے ان میں افغانستان، عراق، چیچنیا، بوسنیا، سوڈان، ایتھوپیا جیسے ممالک شامل ہیں۔ عبدالستار ایدھی کی سماجی خدمات کے اعتراف میں 1982ء میں رامون ماکسی ایوارڈ 1988ء میں لینن ایوارڈ اور1989ءمیں حکومت پاکستان کی طرف سے نشان امتیاز عطا کیا گیا۔ ان کے علاوہ بھی متعدد ملکی اور غیرملکی اداروں نے عبدالستار ایدھی کر سماجی خدمات کے اعتراف میں انھیں اعزازات سے نوازا۔
انسان ایک سماجی حیوان کس طرح ہے؟
انسان کو چونکہ ایک معاشرہ بنا کر رہتا ہوتا ہے اس لیے انسان ایک سماجی حیوان کہلاتا ہے۔دنیا کا کوئی انسان اکیلے زندگی نہیں گزار سکتا۔ اُسے اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے ایک معاشرے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایک اچھے معاشرے کی بنیادی خصوصیات میں خدمت خلق ، عدل و انصاف، بھائی چارہ، ایثارو قربانی ، سادگی اور اخلاقیات شامل ہیں۔
خدمت خلق کا اعزاز کس شخص کے حصے میں آتا ہے؟
یہ اعزاز ایسے لوگوں کے حصے میں آتا ہے جو ہر قسم کی خود غرضی ، ذاتی منفعت، مطلب پرستی ، رنگ ونسل، علاقائی و صوبائی اور لسانی امتیازات سے بالا تر ہو کر صرف اور صرف انسانیت کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔
خدمت خلق سے کیا مراد ہے؟
اپنی زندگی انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کر دینا خدمت خلق کہلاتا ہے۔خالق کا ئنات کی مخلوق کے کام آنا کسی طرح بھی عبادت سے کم نہیں ہوتا۔ اللہ رب العزت کے نزدیک سب سے اچھا عمل اس کے بندوں کی خدمت کرتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے حقوق العباد پر خصوصی احکامات صادر فرمائے ہیں۔ جو انسان دوسروں کی تکلیف، پریشانی اور مصیبت دور کرنے کی سعی و کوشش کرتا ہے، اللہ تعالی دنیا و آخرت میں اس کا بول بالا کرتا ہے۔
خدمت خلق کے حوالے سے آپ کیا کام کر سکتے ہیں؟
خدمتِ خلق کے طور مجھے ضرورت مند انسانوں کی مدد کرنا پسند ہے کسی بھوکے کو کھانا کھلانا کسی سفید پوش انسان کی ضروریات کو جان کر اس کو محسوس کروائے بغیر ان کو پورا کرنا مجھے پسند ہے۔
متن کے حوالے سے درج ذیل خالی جگہ پر کریں۔

عبدالستار ایدھی یکم جنوری 1928ء کو اس دنیا میں تشریف لائے۔
عبدالستار ایدھی نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ خدمت انسانی کے لیے وقف کر دیا۔
انسان ایک جیسی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔
۱۹۵۷ء میں کراچی میں وسیع پیمانے پر فلو کی وبا پھیلی۔
خدمت خلق کرنے والے دوسروں کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔

درج ذیل عبارت کو غور سے سنیں اور نیچے دیے گئے سوالوں کے جوابات دیں۔
زندگی کا لطف عام طور پر، اس انداز نظر سے حاصل کرنا چاہیے گو یایہ کائنات ایک باغ ہے۔ دریا اور جھیلیں اس باغ میں چھوٹے چھوٹے تالابوں کی مانند ہیں اور اس باغ میں ہر ذی روح اپنی فطرت کے تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کر سکتا ہے۔ صرف اسی طرح گہری اور سچی خوشی حاصل ہو سکتی ہے۔ ذرا اس کا مقابلہ اسر بے رحمی سے کیجیے جس کے ماتحت پرندوں کو پنجرے میں بند کر کے یا زندہ مچھلیوں کو شیشے کے مرتبان میں رکھ کر ان کے بال و پر رنگ اور چچیوں سے لطف حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
زندگی کا لطف عام طور پر کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے؟
زندگی کا لطف کائنات کی حقیقی تصویر کشی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔جہاں ہر ذی روح فطرت کے تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کرتا ہو۔
گہری اور سچی خوشی کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے؟
گہری اور سچی خوشی کائنات کے رنگ کو اس کے اصل رنگ اور نظریے سے دیکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔
درج ذیل الفاظ کو قواعد کے لحاظ سے الگ الگ کر یں۔
سخی،ملتانی،تمھارا، لاہوری، میرا، کنجوس،برطانوی، بدنما،اس کا

صفت نسبتی:
ملتانی ، لاہوری ، برطانوی

صفت ذاتی:
سخی ، کنجوس ، بد نما

صفت ضمیری:
تمھارا ، میرا ، اس کا

سوچیے اور بتائیے:

درج ذیل الفاظ اور تراکیب کے جملے بنائیں:

الفاظ
جملے

نام ور
احمد ایک نام ور وکیل ہے۔

خدمت خلق
خدمت خلق کے جذبے سے سرشار نوجوان آگے بڑھے۔

مصروف عمل
موجودہ دود میں ہر انسان اپنی زندگی میں مصروف عمل ہے۔

منفعت
روز محشر لین دین منفعت ہر چیز کا حساب کتاب ہوگا۔

عظیم
خدمت خلق ایک عظیم جذبہ ہے۔

خدمت خلق کے موضوع پر تین سو الفاظ پر مشتمل مضمون تحریر کریں۔
انسان کہلانے کا وہی شخص مستحق ہے جو دوسروں کے لیے دل میں درد رکھتا ہو دوسرے سے محبت کا سلوک رکھتا ہو۔ ان کی مصیبت میں مدد کرتا ہو۔ الغرض’’انسان وہ ہے جو دوسرے کے لیے جئے۔ اپنے لیے تو حیوان اور کیڑے مکوڑے بھی زندہ رہتے ہیں۔ انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے، اسے تمام جانوروں سے افضل اور برتر مانا گیا ہے۔ یہ درجہ اور رتبہ اسے صرف اس حالت میں حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ دوسروں کے غم میں شریک ہو۔
دوسروں کا مصیبت میں ہاتھ بٹائے۔ ان کی مدد اور خدمت کرے۔ خدمت اور ایثار کا جذبہ ہی انسان کو دوسرے سے افضل بناتا ہے۔دنیا کے ہر مذہب می خدمت خلق پر زور دیا گیا ہے۔ اگر انسان کسی مظلوم یا دکھی کی مدد نہیں کرتا تو وہ جانور ہے بلکہ اس سے بھی گیا گزرا ہے۔ سماج میں خدمت خلق ہر انسان پر فرض ہے۔ خدمت کرنے والا یوں محسوس کرتا ہے کہ گویا اس نے اپنے کندھے سے فرض کا بھاری بوجھ اتارا ہے۔ دنیا میں نیک اعمال ایسے بیج ہیں جن کا پھل آخرت میں ملتا ہے۔
ریڈ کراس سوسائٹی خدمت خلق کے لیے ہی وجود میں آئی ہے۔ یہ بلالحاظ مذہب و ملت، ملک و قوم، رنگ نسل تمام ستم زدوں کی خدمت بجا لائی ہے۔ خدمت خلق کی کئی صورتیں ہیں۔ محتاجوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا، بیماروں کی تیمارداری کرنا، زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا، گمراہوں کو راستہ بتانا، یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنا، ان پڑھ کو پڑھانا، کمزور کو جابر سے بچانا، حادثہ کے شکار کو ہسپتال پہنچانا۔ انسان کا اصلی مذہب ہی محبت اور خدمت خلق ہے۔ باقی سب کچھ ڈھونگ ہے۔درحقیقت انسان خدمت خلق سے فرشتے پر بھی سبقت لے جا سکتا ہے۔ پس خدمت خلق ہی اس دنیاوی زندگی کی اصل روح ہے۔
انچارج ڈاک خانہ کے نام خط لکھ کر اپنے گم شدہ پارسل کی بابت پوچھیں۔
اسلام آبادجنوری 2022ء15جناب پوسٹ ماسٹر ڈاکخانہ آئی ٹن/فور اسلام آباداسلام علیکم!امید کرتی ہوں آپ خیریت سے ہوں گے آج آپ کو یہ سپاپس نامہ لکھنے کا مقصد اپنے پارسل کی گمشدگی کے مطلق معمولات لینا اور آپ کو اس معاملے سے آگاہ کرنا ہے۔میں جنت گارڈن لاہور کا رہائشی ہوں ۔ میرا بڑا بھائی اسلام آباد میں سرکاری نوکری کی وجہ سے رہائش پذیر ہے ۔ 2 اگست 2020ء بروز منگل ایک پارسل جس میں انتہائی قیمتی کاغذات اور اسناد تھیں بذریعہ ڈاک ارسال کیے تھے ۔ آج پندرہ دن ہونے کو آئے ہیں ابھی تک میرے بڑے بھائی تک پارسل نہیں پہنچا ۔ جس کی وجہ سے ہم شدید پریشانی کا شکار ہیں ۔ ہم نے کئی بار متعلقہ ڈاک خانوں سے ذاتی حیثیت سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی تک کوئی شنید اور پیش رفت نہیں ہوئی ۔ پارسل کی تفصیل درج ذیل ہے :پارسل روانگی 2 اگست 2022ءوزن 400 گرامپوسٹ نمبر پی کے 15281318امید کرتی ہوں آپ جلد متعلقہ معمالے کی چھین بین کو ممکن بناتے ہوئے میرے مسئلے کا حل نکالیں گے۔والسلامعبد الواسعمکان نمبر ۱۹۱۰ نگلی نمبر ۱۵،آئی ٹن ، دن، اسلام آباد

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
Ilmu علمو
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x