فلم : تعارف اور تاریخ

فلم : تعارف اور تاریخ

Advertisements

            فلم انگریزی زبان کا لفظ ہے۔فلم ایسی باریک جھلی کو کہتے ہیں جس پر تصاویر کا عکس موجودہوتا ہے اور ان تصاویر کو پردے پر متحرک صورت میں دکھایا جاتا ہے۸؎۔

            اصطلاح میں فلم ایسی کہانی کو کہا جاتا ہے جس کو  ان متحرک تصاویر کی مدد سے پردے پر پیش کیا جاتا ہے۔

فلم : تعارف اور تاریخ
فلم : تعارف اور تاریخ

فلم کے علاوہ مووی, موشن پکچر, فوٹو پلے اور “موونگ پیکچر” جیسے الفاظ بھی استعمال کیے جاتےہیں۔اس کے علاوہ امریکہ میں مووی، یورپ اور پاکستان میں فلم ، اور ہندوستان میں عموما پکچر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔جس پردے پر فلم دکھائی جاتی ہے اسے سلور سکرین، بگ سکرین,  اور سینما کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

Advertisements

            فلم سازی ایک فن(آرٹ) ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صنعت کا درجہ بھی رکھتی ہے۔اس میں اسکرپٹ، سیٹ(مقام)، لباس، ہدایت کاری، پروڈکشن، اداکاری، ناظرین، کہانی کارگروپ، موسیقی، رقص اور  نتائج وآمدن کے شعبوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ایک الگ شعبہ ہونے کے باوجودفلم کا ادب سے براہ راست تعلق ہوتا ہے۔ اس کو ڈراما کی جدید یا برقی شکل بھی کہا جا سکتا ہے۔ ڈرامہ ہی وہ صنف ہے جو بغیر فلمائے تکنیکی ڈھانچہ رکھتی تھی جسےفلم سازی میں استعمال کیا گیا۔فلم کھیلے گئے  ڈرامے کی کہانی، پلاٹ، کردار، حالات، مکالمے، تجسس، عروج و زوال وغیرہ کو کیمرے میں قید کرنا ہے۔ڈراما ادب کی قدیم صنف ہے جس کا آغاز یونان سے ہوا جو ترقی کرتا ہوا یورپ کے جدید ڈراموں کی شکل میں سامنے آیا۔ ڈراموں کا مقصد تفریح، آگہی، معاشرتی اقدار، حکومت کے حالات اور پراپیگنڈہ پھیلانا ہوتا تھا۔ یہی کام آج کے دور میں فلم سے لیا جاتا ہے۔ ڈرامے کے علاوہ دیگر اصناف سے بھی یہ کام لیا جاتا رہا لیکن چھاپہ خانوں پر پابندی کی وجہ سے ان کا دائرہ کار محدود رہا۔نشاۃ الثانیہ کے بعد جہاں ایک طرف چھاپہ خانے بحال ہوئے تو دوسری طرف سائنسی علوم بھی پابندیوں سے آزاد ہو گئے ۔ چھاپہ خانوں کی آزادی کے نتیجے میں ادبی اصناف نے ترقی کی، اور سائنسی علوم کی بدولت جدید آلات کی ایجاد ات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ادب کی آزادی ڈراما دیگر اضناف کی عمومیت کا باعث بنی اور سائنسی ایجادات کیمرے کی ایجاد کا، کیمرے نے بعد ازاں جب کھیلی گئی ادبی کہانی (ممکنہ ڈراما) کو رقم کیا تو  اسے”فلم” کہا گیا۔

            ۱۸۳۰ ء میں سیمن وان سٹیمفر  نے پہلی مرتبہ متحرک تصویروں کو متعارف کروایا۔ ۱۸۴۵ء میں فرانسس رونالڈنے پہلا کامیاب کیمرہ بنایا جو ریکارڈنگ کر سکتا تھا۔ ۱۸۸۲ء میں فرانسیسی سائنس دان نے کیمرہ ایجاد کیا جسے کرونو فوٹو گرافک گن کہا گیا جو ایک سیکنڈ میں 12 فریم ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔پہلی موشن پکچر جو اپنی شناخت قائم کر سکی، ۱۴ اکتوبر ۱۸۸۸ء میں “Roundhay Garden Scene”کے نام سے برطانیہ کے شہر لیڈز کے ایک باغ میں فلمائی گئی

۱۸۹۶ء میں ایڈیسن نے پہلا کامیاب صنعتی پراجیکٹر امریکہ میں متعارف کروایا۔۱۸۹۶ء میں فرانس، اٹلی، برسلز، لندن میں فلم تھیٹر قائم کیے گئے۔صنعتی پیمانے پر بنائی جانے والی پہلی فلم ۱۸۹۸ء میں Oberammergau Passion Play   کے نام سے منظرِ عام پر آئی۔ اس کے بعد اور بہت سی فلمیں بنائے جانے کا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں فلم سازی ایک صنعت بن گئی۔ پہلی  Cartoon Animationفلم ۱۹۰۶ء میں منظرِعام پر آئی۔ ابتداء میں بنائی جانے والی فلمیں تصاویر کا مجموعہ ہوتی تھیں جن کا آواز سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ یہ فلمیں Silent Movies خاموش فلمیں کہلائی جاتی تھیں۔فلم کے دوران تھیٹر میں ساز بجائے جاتے تھے جو فلم کی کہانی اورحالات کے مطابق رومانوی، ڈراؤنے، پُرتجسس یا مزاحیہ نوعیت کی عکاسی کرتے تھے۔ خاموش فلمیں بنانے کا سلسلہ ۱۹۲۰ءکی دہائی  تک جاری رہا۔۱۹۲۰ء میں آواز ریکارڈ کرنے والا آلات Audio Amplifier Tubeاور Vitaphone System کے معیار میں بہتری آئی تو  فلم کی اداکاری کو آوازوں اور مکالموں سے ہم آہنگ کرنے کے تجربات شروع ہوئے۔ ۱۹۲۷ء میں پہلی مکالماتی  بولتی فلم Sound Film\ Talking Pictureامریکہ میں “The Jazz Singer”کے نام سے ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے بعد کی قریباً ایک دہائی میں خاموش فلموں کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور  فلم سازی کی صنعت میں آواز، موسیقی اور مکالمے کا استعمال عام ہو گیا۔ اس دور کیMonochromeفلموں کو Black and Whiteفلموں کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

 ۱۹۶۰ء کے بعد رنگین فلموں کا رجحان بڑھا۔ ابتداء میں ایسا کوئی آلہ موجود نہ تھا جو کہ منظر کے فطری رنگوں کو براہ راست رقم کر سکے۔مونوکروم فلم کو رنگین بنانے کے لیے ہاتھ یا مشین کی مدد سے فلم کو رنگین بنایا جاتا تھا۔ہاتھ سے رنگین بنائی گئی پہلی فلم Anabelle Serpentine Dance تھی جو کہ ۱۸۹۵ء میں ایڈیسن مینوفیکچرنگ کمپنی نے بنائی۔رنگ سازی کی تکنیک کے استعمال کے بغیررنگین فلم ۱۹۰۲ءمیں ایڈورڈ ریمنڈ ٹرنر نے بنائی۔۱۹۰۸ء میں کینما رنگ ایجاد ہوا اور اسی سال عوام کے لیےمختصر فلم  A Visit to Seaside پیش کی گئی۔ ۱۹۱۰ء میں فطری رنگ فلمانے والے کیمرے کی ایجاد تک ہاتھ اور مشین سے فلمیں رنگین بنانے کا سلسلہ جاری رہا۔۱۹۱۷ء میں Technicolor  اور ۱۹۳۵ء میں Kodachrome متعارف ہونے کی وجہ سے مزید جدّت آئی۔۱۹۵۰ء کے بعد کی صدی  کے لیے Eastman colorمعیار بن گیا۔۲۰۱۰ء میں رنگین فلموں کا سلسلہ ترک ہونا شروع ہوا اور Digital Cinematography کا آغاز ہواDigital Cinematography میں فلم پر عکس ریکارڈ کرنے کے بجائے تمام ویڈیو یا ڈیٹا  ڈیجیٹل شکل میں محفوظ ہوتا ہے۱۱؎۔آج کے دور میں لگ بھگ تمام ویڈیوز ڈیجیٹل کیمروں کی مدد سے ڈیجیٹل یا سافٹ کاپی کی شکل میں بنائی، محفوظ اور پیش کی جاتی ہیں۔ اس سے فلم کی دنیا میں ایک اور جدت یہ آئی کہ تمام ڈیٹا کا تبادلہ آسان ہو گیا اور دنیا کے ہر حصے کی دسترس میں آ گیا۔

            دنیا بھر میں فلم کی صنعت نے خوب ترقی کی۔ مختلف ممالک اپنا  بیانیہ فلموں کے ذریعے سے بھی باقی  دنیا تک پہنچاتے ہیں۔ فلم سازی فنونِ لطیفہ کا درجہ بھی رکھتی ہے اور دنیا  بھر میں ایک اہم  ذریعہ معاش بھی ہے۔مختلف ممالک سالانہ اربوں ڈالرکا منافع فلم سازی کی صنعت سے حاصل کرتے ہیں۔ دنیا  کی سب سے بڑی فلمی صنعت میں امریکہ کی Hollywood ہے جو تقریباً 11 ارب ڈالر کا منافع سالانہ کماتی ہے۔ اس کے علاوہ چین 6.6، جاپان 2، ہندوستان 1.9، فرانس 1.6، جرمنی1.1، اور آسٹریلیا 0.9 ارب ڈالر سالانہ کا منافع کماتے ہیں۔

(تحریر : عدنان ریاض)

We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)

اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں


اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔  تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔

اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر  معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔

 

Follow us on

Advertisements
0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
Ilmu علمو
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x