Table of Contents
Toggleحمد ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے عتیق احمد جاذب
اللہ تعالیٰ کی قدرت، رحمت اور بے شمار نعمتوں کا احساس انسان کو کائنات کی ہر شے سے ہوتا ہے۔ یہ خوبصورت حمد ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے عتیق احمد جاذب کا کارنامہ ہے جس میں فطرت کے دلکش مناظر، انسانی جذبات، زندگی کے نشیب و فراز اور انبیائے کرامؑ کے واقعات کے ذریعے اللہ کی عظمت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کرتی ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، سمندر، پھول، ہوا، بارش اور حتیٰ کہ انسان کے دل کی دھڑکن بھی اپنے خالق کی پہچان کرواتی ہے۔ یہ حمد نہ صرف روحانی کیفیت پیدا کرتی ہے بلکہ قاری کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر غور و فکر کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔
یہ حمد اپنے سادہ مگر پُراثر اندازِ بیان کی وجہ سے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ شاعر نے کائنات کے مختلف مناظر اور زندگی کے متنوع تجربات کو اس خوبصورتی سے جوڑا ہے کہ ہر مصرع اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مہربانی کی گواہی دیتا محسوس ہوتا ہے۔ نظم میں فطرت کی دلکشی، انسان کی خوشیاں اور دکھ، عبادت، دعا اور انبیائے کرامؑ کے مبارک واقعات سب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس پوری کائنات کا نظام اللہ تعالیٰ کی عطا اور حکمت سے قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حمد قاری کے دل میں شکر، محبتِ الٰہی اور روحانی سکون کا احساس پیدا کرتی ہے۔ مزید ادبی تحریروں کے لیے ہمارا ویب پیج ملاحظہ فرمائیں۔

حمد ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے عتیق احمد جاذب
سورج کے اجالوں سے، فضاؤں سے ، خلا سے
چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیا سے
جنگل کی خموشی سے، پہاڑوں کی انا سے
پرہول سمندر سے ، پراسرار گھٹا سے
بجلی کے چمکنے سے ، کڑکنے کی صدا سے
مٹی کے خزانوں سے، اناجوں سے، غذا سے
برسات سے، طوفان سے، پانی سے، ہوا سے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
گلشن کی بہاروں سے، تو کلیوں کی حیا سے
معصوم سی روتی ہوئی شبنم کی ادا سے
لہراتی ہوئی باد سحر، باد صبا سے
ہر رنگ کے ہر شان کے پھولوں کی قبا سے
چڑیوں کے چہکنے سے تو بلبل کی نوا سے
موتی کی نزاکت سے تو ہیرے کی جلا سے
ہر شے کے جھلکتے ہوئے فن اور کلا سے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
دنیا کے حوادث سے ، وفاؤں سے، جفا سے
رنج و غم و آلام سے، دردوں سے، دوا سے
خوشیوں سے، تبسم سے، مریضوں کی شفا سے
بچوں کی شرارت سے تو ماؤں کی دعا سے
نیکی سے، عبادات سے، لغزش سے، خطا سے
خود اپنے ہی سینے کے دھڑکنے کی صدا سے
رحمت تیری ہر گام پہ دیتی ہے دلاسے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
ابلیس کے فتنوں سے تو آدم کی خطا سے
اوصاف براہیم سے، یوسف کی حیا سے
اور حضرت ایوب کی تسلیم و رضا سے
عیسیٰ کی مسیحائی سے، موسیٰ کے عصا سے
نمرود کے، فرعون کے انجام فنا سے
کعبہ کے تقدس سے تو مرویٰ و صفا سے
تورات سے، انجیل سے، قرآں کی صدا سے
یٰسین سے، طٰہٰ سے، مزمل سے ، نبا سے
اک نور جو نکلا تھا کبھی غار حرا سے
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
شاعر:عتیق احمد جاذب
Hum ne tujhe jana hai faqat teri ata se
Chaand aur sitaron ki chamak aur zia se
Jangal ki khamoshi se, paharon ki ana se
Parhaul samandar se, pur-asrar ghata se
Bijli ke chamakne se, karakne ki sada se
Mitti ke khazanon se, anajon se, ghiza se
Barsaat se, toofan se, pani se, hawa se
Hum ne tujhe jana hai faqat teri ata se
Gulshan ki baharon se, tu kaliyon ki haya se
Masoom si roti hui shabnam ki ada se
Lehrati hui baad-e-sahar, baad-e-saba se
Har rang ke har shaan ke phoolon ki qaba se
Chiriyon ke chehakne se to bulbul ki nawa se
Moti ki nazakat se to heere ki jala se
Har shay ke jhalakte hue fan aur kala se
Hum ne tujhe jana hai faqat teri ata se
Duniya ke hawadis se, wafaon se, jafa se
Ranj-o-gham-o-aalam se, dardon se, dawa se
Khushiyon se, tabassum se, mareezon ki shifa se
Bachon ki shararat se to maon ki dua se
Neki se, ibadat se, laghzish se, khata se
Khud apne hi seene ke dhadakne ki sada se
Rehmat teri har gaam pe deti hai dilase
Hum ne tujhe jana hai faqat teri ata se
Iblees ke fitnon se to Aadam ki khata se
Ausaf-e-Ibraheem se, Yusuf ki haya se
Aur Hazrat-e-Ayyub ki tasleem-o-raza se
Isa ki masihai se, Musa ke asa se
Namrood ke, Firaun ke anjaam-e-fana se
Kaaba ke taqaddus se to Marwa-o-Safa se
Taurat se, Injeel se, Quran ki sada se
Yaseen se, Taha se, Muzammil se, Naba se
Ik noor jo nikla tha kabhi Ghaar-e-Hira se
Hum ne tujhe jana hai faqat teri ata se
Poet: Ateeq Ahmed Jazib
اس ارٹیکل میں حمد ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے عتیق احمد جاذب کی تحریر پیش کی گئی ہے۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)
اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں
اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔ تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔ (علمو)اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمارے فیس بک ، وٹس ایپ ، ٹویٹر، اور ویب پیج کو فالو کریں، اور نئی آنے والی تحریروں اور لکھاریوں کی کاوشوں سے متعلق آگاہ رہیں۔
Follow us on
Related
Discover more from Ilmu علمو
Subscribe to get the latest posts sent to your email.