حمد ہم  نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے کی تشریح نظم حمد عتیق احمد جاذب

حمد ہم  نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے کی تشریح نظم حمد عتیق احمد جاذب

اللہ تعالیٰ کی  قدرت، رحمت اور بے شمار نعمتوں کا احساس انسان کو کائنات کی ہر شے سے ہوتا ہے۔ یہ خوبصورت حمد ہم  نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے عتیق احمد جاذب کا کارنامہ ہے ۔یہ حمد اپنے سادہ مگر پُراثر اندازِ بیان کی وجہ سے دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ شاعر نے کائنات کے مختلف مناظر اور زندگی کے متنوع تجربات کو اس خوبصورتی سے جوڑا ہے کہ ہر مصرع اللہ تعالیٰ کی قدرت اور مہربانی کی گواہی دیتا محسوس ہوتا ہے۔ نظم میں فطرت کی دلکشی، انسان کی خوشیاں اور دکھ، عبادت، دعا اور انبیائے کرامؑ کے مبارک واقعات سب ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس پوری کائنات کا نظام اللہ تعالیٰ کی عطا اور حکمت سے قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حمد قاری کے دل میں شکر، محبتِ الٰہی اور روحانی سکون کا احساس پیدا کرتی ہے۔ اس پوسٹ میں حمد ہم  نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے کی تشریح نظم حمد عتیق احمد جاذب پیش کی جا رہی ہے۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے ہماری ویب سائیٹ علمو اور جماعت ہشتم کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔

حمد ہم  نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے کی تشریح نظم حمد عتیق احمد جاذب
حمد ہم  نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے کی تشریح نظم حمد عتیق احمد جاذب

حمد ہم  نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے کی تشریح نظم حمد عتیق احمد جاذب

بند 1۔

سورج کے اجالوں سے، فضاؤں سے ، خلا سے                   چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیا سے
جنگل کی خموشی سے، پہاڑوں کی انا سے                           پرہول سمندر سے ، پراسرار گھٹا سے
بجلی کے چمکنے سے ، کڑکنے کی صدا سے                            مٹی کے خزانوں سے، اناجوں سے، غذا سے
برسات سے، طوفان سے، پانی سے، ہوا سے                     ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

مشکل الفاظ کے معانی۔                 ضیا: روشنی         پُر ہول: خوفناک             پُر اسرار: رازوں سے بھری

تشریح بند 1۔

عتیق احمد جاذب کی نظم حمد کے اس پہلے بند میں  شاعر خدا کی معرفت اور خدا کی ذات کی پہچان و آگہی کی بات کر رہے ہیں۔ دراصل یہ مکمل نظم ہی خدا کی آگہی ، اُس کو پہچاننے اور اُس کی معرفت کے متعلق ہے۔  حمد میں شاعر بہت ساری اشیا ء اور مظاہرِ قدرت کا حوالہ دینے کے بعد اُنہیں خدا کی ذات کو پہچاننے سے جوڑ رہے ہیں۔

حمد کے اس بند میں شاعر یہ کہہ رہے ہیں کہ جب ہم نے آسمان میں موجود اشیاء مثلاً سورج کی روشنی، خلا، فضا، تاریکی، چاند ، ستارے، سیارے وغیرہ کو دیکھا اور غور کیا تو ہمیں یہ احساس ہوا کہ اِن سب چیزوں کو بنانے والی ذات خدا کی ہے۔ کوئی عام آدمی ان اشیا ء اور بڑے بڑے اجرامِ فلکی کو ہر گِز نہیں بنا سکتا۔
اس کے بعد حمد کے اِس بند میں شاعر دنیا میں پائی جانے والی خدا کی مزید آیات اور نشانیوں کا  تذکرہ کرتے ہیں۔ وہ جنگل ، پہاڑ، سمندر، بادل، بادلوں کی بجلی اور کڑک سمت اُن چیزوں کو بیان کرتے ہیں جو اِن میں چھُپی ہوئی ہیں۔ اِن تمام چیزوں کے متعلق شاعر کہتے ہیں کہ یہ سب خدا کی ہی مخلوق ہیں اور خدا اِن سب کا خالق ہے۔ اللہ نے ہی ان سب کو پید اکیا ہے اور اِسی وجہ سے یہ خدا کی نشانیاں ہیں۔
اِسی طرح بارش ، برسات، طوفان، اُس پانی سے اُگنے والی فصل، اناج اور غذا وغیرہ بھی خدا ہی کی نشانیاں ہیں۔وہی ہمیں زمین سے فصل اُگا کر دیتا ہے۔  جن کے بارے میں خدا نے اپنے کلام میں خود بار بار بتایا ہے۔ کُل ملا کر یہ کہ خدا کی ذات نے کائنات کا نظام بنایا، اور اِس میں موجود ہر ایک شے کو خلق کیا۔ یہ چیزیں خدا کی نشانیاں، آیت ہیں اور خدا  کی خدائی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

اس پوسٹ میں حمد ہم  نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے کی تشریح نظم حمد عتیق احمد جاذب پیش کی جا رہی ہے۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے ہماری ویب سائیٹ علمو اور جماعت ہشتم کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔

بند 2۔

گلشن کی بہاروں سے، تو کلیوں کی حیا سے                         معصوم سی روتی ہوئی شبنم کی ادا سے
لہراتی ہوئی باد سحر، باد صبا سے                                      ہر رنگ کے ہر شان کے پھولوں کی قبا سے
چڑیوں کے چہکنے سے تو بلبل کی نوا سے                            موتی کی نزاکت سے تو ہیرے کی جلا سے
ہر شے کے جھلکتے ہوئے فن اور کلا سے                           ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

مشکل الفاظ کے معانی۔                گلشن: باغ         کَلی: چھوٹا پھول    شب نم: پودوں پر موجود پانی کے قطرے        سَحَر: صبح           صبا: صبح کی ہوا      قبا: لباس           چہکنا: چڑیوں کی آواز         نوا: آواز           نزاکت: نازُکی      جلا: روشنی                     جھلکنا: ظاہر ہونا               کلا: فن، ہُنر

تشریح بند 2۔

عتیق احمد جاذب کی نظم حمد کے اس دوسرے بند میں  بھی شاعر خدا کی معرفت اور خدا کی ذات کی پہچان و آگہی کی بات کر رہے ہیں۔ دراصل یہ مکمل نظم ہی خدا کی آگہی ، اُس کو پہچاننے اور اُس کی معرفت کے متعلق ہے۔ اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ کسی جگہ پر باغ میں آنے والی بہاریں خدا کی ذات کے وجود کا ثبوت ہیں ، تو کہیں کلیوں کے شرمانے  یعنی نہ کھلنے سے اور باغ میں کہیں پودوں پر موجود شبنم کے قطروں کے ہونے سے انسان کی خدا کی ذات کو پہچانا ہے۔
انسان جب باغ میں جاتا ہے تو اِن خوب صورت چیزوں کو اور ان کے حُسن کو دیکھ کر انسان حیران ہو اجاتا ہے۔ انسان سوچنے لگتا ے کہ اِس تمام حُسن اور خوب صورت کو پیدا کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟
اسی طرح جب ہوا چلتی ہے اور یہ ہوا خود کو بادِ سحر یا بادِ نسیم  یا بادِ صبا کی ٹھنڈک اور تازگی میں ڈھال لیتی ہے اورمختلف رنگوں بلکہ ہر ایک رنگ اور ہر ایک شان  و انداز کے پھولوں پر جب نظر جاتی ہے تو انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ خدا کی ذات کس طرح سے حُسن اور خوب صورتی کو اس دنیا میں اپنی آیت بنا کر نازل کرتی ہے۔

اسی طرح خدا کے ہونے کی گواہی چڑیوں کی چہچہاہٹ اور بلبل کی صدا بھی دیتی ہے۔اسی طرح موتی کی نزاکت اور ہیرے کی چمک اللہ کی ذات اور اس کے وجود کی گواہ ہے۔اس دنیا میں موجود ہر ایک چیز کا فن اور ہُنر اللہ کی موجودگی کا گواہ ہے۔ یہ چیزیں اور یہ حُسن بتاتا ہے کہ خدا جمیل ہے اور جمال کو پسند کرنے والا ہے۔ اور رب  حقیقی کی ان خوب صورت عطا ؤں سے ہم نے اس ذات کو پہچانا ہے۔

اس پوسٹ میں حمد ہم  نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے کی تشریح نظم حمد عتیق احمد جاذب پیش کی جا رہی ہے۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے ہماری ویب سائیٹ علمو اور جماعت ہشتم کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔

بند 3۔

دنیا کے حوادث سے ، وفاؤں سے، جفا سے                       رنج و غم و آلام سے، دردوں سے، دوا سے
خوشیوں سے، تبسم سے، مریضوں کی شفا سے                  بچوں کی شرارت سے تو ماؤں کی دعا سے
نیکی سے، عبادات سے، لغزش سے، خطا سے                    خود اپنے ہی سینے کے دھڑکنے کی صدا سے
رحمت تیری ہر گام پہ دیتی ہے دلاسے                           ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے

مشکل الفاظ کے معانی۔      حوادث : حادثات/واقعات جفا : ظلم            رنج ،  غم ،  آلام : دُکھ         تبسم : مسکراہٹ             لغزش / خطا: غلطی دھڑکنے : دل کی دھڑکن صدا : آواز         گام : قدم دلاسے: تسلی

تشریح بند 3۔

حمد کے اس تیسرے بند میں شاعر عتیق احمد جاذب خدا کی ذات کی معرفت کو بیان کرنے کے لیے زندگی کے معمولات اور روز مرہ کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کا سہارا لیتے ہیں۔ شاعر کا کہنا ہے کہ اس دنیا میں رونما ہونے والے تمام تر حادثات اور واقعات دراصل خدا ہی کی مرضی کے مطابق رونما ہوتے ہیں۔ جس چیز کی اجازت خدا نہ دے وہ کبھی بھی نہیں ہو سکتی۔
اسی طرح وفا اور جفا  سے بھی خدا کی ذات کی پہچان ہوتی ہے۔ ہمیں پہنچنے والی کوئی بھی تکلیف ، دکھ ، درد اور اس کی دوا ہمیں کسی ذات کے ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔ وہ ذات خدا کی ذات ہے۔ تکلیف ملنے پر ہم سہارا تلاش کرتے ہیں اور خدا کی ذات کے قریب چلے جاتے ہیں۔ اور خوشی ملنے پر بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہماری خوشیوں ، تکالیف اور مریضوں کو ملنے والی شفا بھی ہمیں کسی ذات کے وجود کا احساس دلاتی ہے اور وہی ذات اللہ کی ذات ہے۔جب چھوٹے چھوٹے بچے شرارت کرتے ہیں تو ہمیں ان کی معصومیت یاد آ جاتی ہے، اور ذہن میں خیال  آتا ہے کہ خدا ہماری خطاؤں کو معاف کرتا ہے جیسے ماں باپ اپنی اولاد کی غلطی پر اسے معاف کرتے ہیں۔ اسی طرح ماں کی محبت ہمیں احساس دلاتی ہے کہ خدا تو ایک ماں سے بھی ستّر گُنا زیادہ ہم سے محبت کرتا ہے۔

شاعر کہتے ہیں کہ ہمیں خداکی ذات کو تلاش کرنی کی ضرورت نہیں ہے ، اگر ہم غور کریں تو وہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ وہ ہمارے سینے میں موجود ہے۔ ہمارے دل کی دھڑکن خود گواہی دیتی ہے کہ خدا کی ذات موجود ہے جو مجھے چلائے ہوئے ہے۔  گویا یہ بات نتیجتاً کہی جا سکتی ہے کہ خدا ہی وہ ذات ہے جو واحد بھی ہے اور لا شریک بھی اور ہمارے ارد گرد موجود چیزیں خود اس کا پتا دے رہی ہیں۔  اس کی ذات  خود ہر ایک چیز سے ظاہر ہوتی رہتی ہے۔

اس پوسٹ میں حمد ہم  نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے کی تشریح نظم حمد عتیق احمد جاذب پیش کی جا رہی ہے۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے ہماری ویب سائیٹ علمو اور جماعت ہشتم کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)

اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں

اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔  تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔ (علمو) اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر  معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمارے فیس بک ، وٹس ایپ ، ٹویٹر، اور ویب پیج کو فالو کریں، اور نئی آنے والی تحریروں اور لکھاریوں کی کاوشوں  سے متعلق آگاہ رہیں۔

Follow us on


Discover more from Ilmu علمو

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

error: Content is protected !!
Index