مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح (حصہ دوم)
مرزا غالب کی غزل “سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں” اردو شاعری کی مشہور، نہایت اہم اور فکری غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس غزل میں مرزا غالبؔ نے کائنات کی وسعت، انسانی زندگی کی ناپائیداری، یادداشت کی کمزوری اور عشق کی پیچیدگی جیسے گہرے موضوعات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ یہ غزل اپنے علامتی انداز، گہری سوچ اور فلسفیانہ رنگ کی وجہ سے ادبی حلقوں اور طلبہ میں یکساں مقبول ہے۔
اس پوسٹ میں بارہویں جماعت کے اردو نصاب میں شامل مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح (حصہ دوم) پیش کیا جا رہا ہے، جو طلبہ کے لیے سود مند ہو گا۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔

شعر 5
ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں
مشکل الفاظ کے معانی
موحد : توحید پر یقین رکھنے والا کیش : مذہب ترکِ رسوم : رسم و رواج کو چھوڑ دینا
تشریح شعر 5
مرزا غالب کی مشہور غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں ایک بلند پایہ اور گہرا فلسفیانہ شعور رکھنے والی غزل ہے۔ یہ مرزا غالب کی شاعری کا خاصا ہے کہ اس میں بڑے بڑے فلسفیانہ خیالات اور نئے نئے افکار کو خوبصورت زبان کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح کرتے ہوئے اس شعر کو دیکھا جائے تو اس میں مرزا غالب توحید کے موضوع کو منفرد اور دلچسپ انداز میں پیش کرتے ہیں۔
مرزا غالب غزل کے اس شعر میں کہتے ہیں کہ توحید کے ماننے والوں کی یہ خاصیت ہے کہ وہ سابقہ رسوم و رواج کو ترک کر دیتے ہیں۔ رسوم و رواج اور دنیاوی تفریق کے سلسلے یہیں دھرے رہ جانے ہیں اور عارضی ہیں۔ اور واحد خدا کے ماننے والوں کی خاصیت رہی ہے کہ وہ دنیا کی پابندیوں اور رسوم و رواج کی زنجیروں میں نہیں جکڑے رہ سکتے بلکہ وہ دنیا میں الہیاتی نظا رائج کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
جس طرح عرب کی سر زمین پر اسلام اور ایک خدا کی معرفت کا ستارہ جگمگایا تو عربوں نے اپنی تہذیب اور اپنے سابقہ رسوم و رواج کو الوداع کہہ دیا۔ اسی طرح جب ہندوستان میں بھی دین اسلام کے ماننے والوں کی تعداد بڑھی تو انہوں نے ہندوستان کی قدیم تہذیب کو خیر آباد کہنا شروع کر دیا اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو اپنا لیا۔
یہاں یہ پہلو بھی زیرِ بحث آتا ہے کہ ہندوستانی تہذیب ذاتوں اور قوموں کی تقسیم پر مبنی تھی، اور اسی تقسیم کو رد کر کے ایک ملت کا تصور ، ایک آدم کی اولاد کا تصور ہی اسلام اور انسانیت کا نظریہ ہے۔
مرزا غالب کا یہ کہنا ہے کہ جب ملتیں، اقوام، اور انسانی گروہ اپنی سابقہ تہذیب اور اس تہذیب کی قباحتوں کو رد کرتے ہیں اور ایک عالمی و آفاقی اصول کی پیروی کرتے ہیں تو وہ دین کے دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں اور دین اسلام کے دائرے میں داخل ہونے کے لیے اس عمل کی انتہائی ضرورت ہے۔ مرزا ٖغالب کہتے ہیں کہ ہم ایک خدا کو ماننے والے ہیں اور ہمارا مذہب تقسیم در تقسیم کو ذات پات سمیت تفرقہ بازی پیدا کرنے والے رسم و رواج کو چھوڑ دینا ہے۔ جب مختلف قومیں مٹ گئیں تو وہ سب ایمان کا حصہ بن گئیں۔ یعنی اصل دین سادگی اور خالص توحید ہے، نہ کہ ظاہری رسوم کا مرکب ۔ غالب یہاں ایک گہرا فلسفیانہ ، صوفیانہ اور مذہب کے عقائد پر مبنی خیال پیش کرتے ہیں۔
اس پوسٹ میں بارہویں جماعت کے اردو نصاب میں شامل مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح (حصہ دوم) پیش کیا جا رہا ہے، جو طلبہ کے لیے سود مند ہو گا۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔
شعر 6
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
مشکل الفاظ کے معانی
رنج: دکھ، مشکل ، تکلیف خوگر: عادی
تشریح شعر 6
یہ تشریح طلب شعر انسان کی زندگی میں آنے والی مشکلات اور انسان کا ان مشکلوں کا سامنا کرنے کو بیان کرتا ہے۔ مرزا غالب کی مشہور غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں ایک بلند پایہ اور گہرا فلسفیانہ شعور رکھنے والی غزل ہے۔ غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح کرتے ہوئے اس تشریح طلب شعر پر نظر ڈالیں تو اس میں انسانی زندگی کی تلخیوں اور دکھوں کا بیان ہونے کے ساتھ ساتھ، انسان کے مضبوط ہو جانے کا احوال بھی بیان کیا گیا ہے۔
غزل کے اس تشریح طلب شعر میں مرزا غالب وہی نظریہ اور خیال پیش کر رہے ہیں جو قرآن مجید سورۂ نشرح میں پیش کیا گیا ہے۔ یعنی مرزا غالب سورۂ نشرح کی تائید کر رہے ہیں۔ مختصر اور سادہ الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی زندگی میں مشکلات کا آنا ایک فطری امر ہے۔ دنیا کا ہر انسان اس دنیا کی سختیاں اور مشکلات کسی نہ کسی طرح سے برداشت کرتا ہے۔ کچھ لوگ ان مشکلات کو برداشت کرنے کے بجائے گھبرا جاتے ہیں اور ٹوٹ جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ ان مشکلوں کو اتنا برداشت کر لیتے ہیں کہ مضبوط بن جاتے ہیں اور یہ مشکلات ان کے لیے ایک کھیل بن جاتی ہیں۔ اس حوالے سے مرزا غالب کا یہ شعر نقل کیا جا سکتا ہے کہ : بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے، ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
سورۂ الم نشرح میں بھی ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یعنی انسان جتنی سختیاں اور مشکلیں برداشت کرتا جائے گا اتنا ہی وہ مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا اور ان سختوں کو برداشت کرنے سے انسان کی اگلی زندگی آسان تر ہوتی چلی جائے گی۔ مرزا غالب نے اس شعر میں زندگی کا ایک سیدھا سادہ ا ور عمومی سا نظریہ پیش کیا ہے جس کا سامنا ہر ایک انسان کرتا ہے اور تقریباً تمام انسان زندگی گزارنے کے اسی اصول کے کار بند ہوتے ہیں۔
اس پوسٹ میں بارہویں جماعت کے اردو نصاب میں شامل مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح (حصہ دوم) پیش کیا جا رہا ہے، جو طلبہ کے لیے سود مند ہو گا۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔
شعر 7
یوں ہی گر روتا رہا غالب تو اے اہلِ جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
مشکل الفاظ کے معانی
اہلِ جہاں: دنیا والے ویراں: غیر آباد
تشریح شعر 7
مرزا غالب غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل کے اس شعر میں اپنے مسلسل غم، رنج اور آنسوؤں کا ذکر کرتے ہوئے دنیا والوں سے مخاطب ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میں اسی طرح روتا اور غم میں ڈوبا رہا تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ یہ بستیاں ویران ہو جائیں گی۔ شاعر نے اپنے دکھ کو اس قدر شدید اور اثر انگیز بنا کر پیش کیا ہے کہ گویا اس کے آنسو پوری دنیا کی رونق چھین لینے کی طاقت رکھتے ہیں۔
اس شعر میں مرزا غالب نے مبالغے کے انداز میں اپنے دل کی کیفیت بیان کی ہے۔ دراصل وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کے غم کی شدت بہت زیادہ ہے، مگر دنیا ان کے درد کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ شاعر اپنے دکھ کو صرف ذاتی غم نہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت قرار دیتا ہے جس کے اثرات پورے ماحول پر پڑ سکتے ہیں۔
یہ شعر انسانی تنہائی اور بے بسی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ غالب محسوس کرتے ہیں کہ اگر انسان کے دکھوں کو نظر انداز کیا جائے اور وہ اندر ہی اندر گھلتا رہے تو اس کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کی خوشیوں کو متاثر کر دیتا ہے۔
اس پوسٹ میں بارہویں جماعت کے اردو نصاب میں شامل مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح (حصہ دوم) پیش کیا جا رہا ہے، جو طلبہ کے لیے سود مند ہو گا۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔
We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)
اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں
اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔ تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔ (علمو) اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمارے فیس بک ، وٹس ایپ ، ٹویٹر، اور ویب پیج کو فالو کریں، اور نئی آنے والی تحریروں اور لکھاریوں کی کاوشوں سے متعلق آگاہ رہیں۔
Follow us on
Discover more from Ilmu علمو
Subscribe to get the latest posts sent to your email.