مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں مکمل متن
مرزا غالبؔ کی غزل “سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں” اردو شاعری کی مشہور، نہایت اہم اور فکری غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس غزل میں غالبؔ نے کائنات کی وسعت، انسانی زندگی کی ناپائیداری، یادداشت کی کمزوری اور عشق کی پیچیدگی جیسے گہرے موضوعات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ یہ غزل اپنے علامتی انداز، گہری سوچ اور فلسفیانہ رنگ کی وجہ سے ادبی حلقوں اور طلبہ میں یکساں مقبول ہے۔ غالب کی شاعری ایک ہی شکل میں محفوظ نہیں رہی بلکہ وقت کے ساتھ اس میں تدوین (ایڈیٹ) اور انتخاب ہوتا رہا۔ اس لیے یہ غزل دیوانِ غالب کے مختلف مطبوعہ اور قلمی نسخے سے اخذ کی گئی ہے۔
اس پوسٹ میں مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں مکمل متن پیش کیا گیا ہے۔ مزید ادبی فن پاروں، نظموں اور غزلوں کے متعلق جاننے کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔

مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں مکمل متن
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہو گئیں
تھیں بناتُ النعشِ گردوں دن کو پردے میں نہاں
شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
لیکن آنکھیں روزنِ دیوارِ زنداں ہو گئیں
سب رقیبوں سے ہوں ناخوش پر زنانِ مصر سے
ہے زلیخا خوش کہ محوِ ماہِ کنعاں ہو گئیں
جُوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ شامِ فراق
میں یہ اشکِ لعل گوں گوہرِ تاباں ہو گئیں
ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
قدرتِ حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں
نیند اس کی ہے، دماغ اس کا ہے، راتیں اس کی ہیں
تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں٭
میں چمن میں کیا گیا، گویا دبستاں کھل گیا
بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں
وہ نگاہیں کیوں ہوئیں یارب دل کے پار کیوں
جو مری کوتاہیٔ قسمت سے مژگاں ہو گئیں
بس کہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پھر بھی آگ
میری آہیں بخیۂ چاکِ گریباں ہو گئیں
واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب
یاد تھیں جتنی دعائیں صَرفِ درباں ہو گئیں
جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیا
سب لکیریں ہاتھ کی گویا رگِ جاں ہو گئیں
ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کی آساں ہو گئیں
یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہلِ جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
نوٹ: بعض نسخوں میں اشعار کی تعداد، ترتیب یا چند اشعار میں معمولی اختلاف ملتا ہے، یہ غزل کا ایک مستند اور معروف متن ہے۔
٭ حالی نے یادگارِ غالب میں یوں درج کیا ہے : جس کے بازو پر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں ۔ جویریہ مسعود
اس پوسٹ میں مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں مکمل متن پیش کیا گیا ہے۔ مزید ادبی فن پاروں، نظموں اور غزلوں کے متعلق جاننے کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)
اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں
اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔ تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔ (علمو) اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمارے فیس بک ، وٹس ایپ ، ٹویٹر، اور ویب پیج کو فالو کریں، اور نئی آنے والی تحریروں اور لکھاریوں کی کاوشوں سے متعلق آگاہ رہیں۔
Follow us on
Discover more from Ilmu علمو
Subscribe to get the latest posts sent to your email.