مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح (حصہ اول)
مرزا غالب کی غزل “سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں” اردو شاعری کی مشہور، نہایت اہم اور فکری غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس غزل میں مرزا غالبؔ نے کائنات کی وسعت، انسانی زندگی کی ناپائیداری، یادداشت کی کمزوری اور عشق کی پیچیدگی جیسے گہرے موضوعات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ یہ غزل اپنے علامتی انداز، گہری سوچ اور فلسفیانہ رنگ کی وجہ سے ادبی حلقوں اور طلبہ میں یکساں مقبول ہے۔
اس پوسٹ میں بارہویں جماعت کے اردو نصاب میں شامل مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح کا پہلا حصہ پیش کیا جا رہا ہے، جو طلبہ کے لیے سود مند ہو گا۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔

شعر 1
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
مشکل الفاظ کے معانی
لالہ: پھول کی ایک قسم لالہ و گُل: مختلف طرح کے پھول نمایاں: سامنے آ جانا
تشریح شعر 1
مرزا غالب کی مشہور غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں ایک بلند پایہ اور گہرا فلسفیانہ شعور رکھنے والی غزل ہے۔ یہ مرزا غالب کی شاعری کا خاصا ہے کہ اس میں بڑے بڑے فلسفیانہ خیالات اور نئے نئے افکار کو خوبصورت زبان کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔
مرزا غالب اپنی اس شہرہ آفاق غزل کے مطلع میں دنیا میں پائی جانے والی خوبصورتی کو اپنا موضوع ِ کلام بناتے ہیں۔ مرزا غالب کہتے ہیں کہ زمین سے اُگنے والے پھول جن میں لالہ بھی شامل ہے، گلاب بھی ہے، چنبیلی ہے، اشرفی، کنول، نرگس وغیرہ الغرض جتنے بھی پھول ہیں سب بلاشبہ بہت خوبصورت ہیں۔ لیکن ان کی یہ خوبصورتی کسی اور کی دی ہوئی ہے۔
اس دنیا میں خوبصورت اور حسین چہرے موجود ہیں، موجود تھے، اور مزید پیدا ہوں گے۔ یہ حَسین چہرے اور خوبصورت لوگ جب اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد زمین میں دفن ہوتے ہیں تو ان میں سے سب نہیں صرف چند ہی، کچھ ہی چہرے ایسے ہیں، جو پھولوں کی شکل میں دوبارہ ظاہر ہو جاتے ہیں۔
کیا ہی خوب صورت اور لاجواب حسن رکھنے والے چہرے رہے ہوں گے اس دنیا میں، اور جب وہ اس دنیا پردہ فرماتے ہیں، اپنا حُسن چھپا لیتے ہیں، دنیا والوں کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں یا یوں کہیے کہ زمین میں دفن ہو جاتے ہیں، تو دراصل ان کا حُسن زمین سے پھوٹ کر حسین پھولوں کی شکل میں باہر آ رہا ہوتا ہے۔
مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل کے مطلع کے متعلق یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ “آواگون” یا دوبارہ پیدا ہونے کا ایک نیا نظریہ ہے۔ اور غالب دنیا میں پائی جانی والی خوبصورتی کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ خوبصورتی کسی دوسری شکل میں دوبارہ پیدا ہو رہی ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ دنیا میں جتنی بھی خوبصورتی اور کمال تھا، وہ سب پھولوں میں ظاہر نہیں ہو گیا۔ یعنی کائنات میں بے شمار خوبصورت صورتیں تھیں جو مٹی میں دفن ہو گئیں اور ظاہر نہ ہو سکیں۔ شاعر یہاں فنا (موت) اور دنیا کی ناپائیداری کا ذکر کرتا ہے کہ کتنی ہی حسین ہستیاں آئیں اور مٹ گئیں، ان کا کوئی نشان باقی نہ رہا۔ یہ شعر انسان کی بے بسی اور وقت کی بے رحمی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس پوسٹ میں بارہویں جماعت کے اردو نصاب میں شامل مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح کا پہلا حصہ پیش کیا جا رہا ہے، جو طلبہ کے لیے سود مند ہو گا۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔
شعر 2
یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہو گئیں
مشکل الفاظ کے معانی
بزم آرائیاں: محفلیں اور محفلوں کی رونق طاقِ نسیاں: بھول جانے کا حصہ
تشریح شعر 2
مرزا غالب کی مشہور غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں ایک بلند پایہ اور گہرا فلسفیانہ شعور رکھنے والی غزل ہے۔ یہ مرزا غالب کی شاعری کا خاصا ہے کہ اس میں بڑے بڑے فلسفیانہ خیالات اور نئے نئے افکار کو خوبصورت زبان کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ غزل کے اس شعر میں مرزا غالب اپنی سابقہ اور موجودہ زندگی کا تقابل پیش کر رہے ہیں۔
غزل کے اس شعر میں شاعر مرزا غالب کہتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا کہ ان کی زندگی میں رنگا رنگ محفلیں اور رونقیں ہوا کرتی تھیں۔ کبھی یہ شہر آباد ہوا کرتے تھے اور ان میں اپنی چہل پہل کی ایک شناخت موجود تھی۔ لیکن اب ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ تمام تر محفلیں اور رونقیں ختم ہو چکی ہیں۔ اور صرف ختم نہیں ہوئیں بلکہ انہیں ختم ہوئے ایک عرصہ گزر گیا ہے۔ اور اتنا طویل عرصہ گزر گیا ہے کہ شاعر اُن تمام تر واقعات کو بھول چکے ہیں۔
بظاہر مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کا یہ شعر ، شاعر کی اپنی ذاتی زندگی کا احوال بیان کر رہا ہے مگر در حقیقت یہ شعر آپ بیتی کے ذریعے جگ بیتی کو بیان کر رہا ہے۔ شاعر کی زندگی میں اگر رونقیں ختم ہوئی ہیں تو ان کے پیچھے شہر کے حالات موجود ہیں۔ شہر کا شہر اُجڑ گیا ہے، تباہ ہو گیا ہے۔ مرزا نے بھی میر تقی میر کی طرح دلّی شہر کو اُجڑتے ہوئے دیکھا۔
کیا بود و باش پوچھے ہو پورب کے ساکنو ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب رہتے تھے منتخب ہی جہاں روز گار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا ہم رہنے والے ہیں اسی اُجڑے دیار کے
مرزا غالب کی غزل کا یہ شعر انہیں پرانی محفلوں کی یاد دلاتا ہے، جب ہر طرف امن تھا۔ وہ رونقیں یاد کر تے تھے مگر اب وہ سب بھلا دی گئی ہیں۔ وہ یادیں اب ذہن کے کسی کونے میں دفن ہو چکی ہیں۔ مرزا غالب یہاں یادداشت کی کمزوری نہیں بلکہ زندگی کی بے ثباتی بیان کرتے ہیں کہ وقت کے ساتھ خوشیاں بھی ماند پڑ جاتی ہیں اور انسان سب کچھ بھلا دیتا ہے۔
اس پوسٹ میں بارہویں جماعت کے اردو نصاب میں شامل مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح کا پہلا حصہ پیش کیا جا رہا ہے، جو طلبہ کے لیے سود مند ہو گا۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔
شعر 3
قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبر
لیکن آنکھیں روزنِ دیوارِ زنداں ہو گئیں
مشکل الفاظ
روزن :سوراخ، روشن دان زنداں :قید خانہ
تشریح شعر 3
مرزا غالب کی مشہور غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں ایک بلند پایہ اور گہرا فلسفیانہ شعور رکھنے والی غزل ہے۔ یہ مرزا غالب کی شاعری کا خاصا ہے کہ اس میں بڑے بڑے فلسفیانہ خیالات اور نئے نئے افکار کو خوبصورت زبان کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ غزل کا یہ شعر ایک تلمیح ہے ۔ جس میں حضرت یوسف اور حضرت یعقوب کے واقعے کو بیان کرتے ہوئے اپنی زندگی میں محبوب کی جدائی کو بیان کیا جا رہا ہے۔
غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح طلب اس شعر میں مرزا غالب حضرت یوسف ؑاور حضرت یعقوب ؑ کی جدائی کو بیان کرتے ہوئے اپنی زندگی کے المیے کا بیان کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ جدائی کے بعد حضرت یعقوب ؑ کو حضرت یوسفؑ کی کوئی خبر نہ ملی تھی۔ اور نہ ہی بظاہر وہ کسی طرح کی خبر گیری کے لیے آئے تھے۔ مگر پھر بھی اس تمام دورانیہ میں وہ مسلسل انتظار میں تھے۔ اور انہوں نے اس شدت سے انتظار کیا کہ رو رو کر ان کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی۔
قید خانے میں روشنی کے داخل ہونے ، قیدی کے لیے باہر کی دنیا کی خبر لینے اور باہر کے شخص کے لیے قیدی کا دیدار کرنے کا ایک ہی ذریعے اور راستہ ہوتا ہے، جو اس قید خانے کا روشن دان ہوتا ہے۔ان تینوں صورتوں کو شعر کے اس دوسرے مصرعے پر لاگو کیا جا سکتاہے۔ حضرت یعقوبؑ کی آنکھیں ایک روزن کی طرح تھیں، جو اپنے بیٹے کو تلاش کر رہی تھیں۔ اور انہی آنکھوں کی رو رو کر روشنی بھی چلی گئی۔ یہ آنکھیں مسلسل انتظار میں رہتے رہتے قید خانے کی دیوار میں جھروکے بن گئیں۔ مطلب یہ کہ شدتِ انتظار نے ان کی آنکھوں کو کمزور اور بے نور کر دیا۔
غزل کا یہ شعر دراصل صبر، انتظار اور محبت کی شدت کو بیان کر رہا ہے۔
اس پوسٹ میں بارہویں جماعت کے اردو نصاب میں شامل مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح کا پہلا حصہ پیش کیا جا رہا ہے، جو طلبہ کے لیے سود مند ہو گا۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔
شعر 4
میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھُل گیا
بلبلیں سُن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں
مشکل الفاظ کے معانی
چمن : باغ دبستاں :مدرسہ، رجحان، تحریک نالہ : فریاد
تشریح شعر 4
مرزا غالب کی مشہور غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں ایک بلند پایہ اور گہرا فلسفیانہ شعور رکھنے والی غزل ہے۔ یہ مرزا غالب کی شاعری کا خاصا ہے کہ اس میں بڑے بڑے فلسفیانہ خیالات اور نئے نئے افکار کو خوبصورت زبان کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں۔ غزل کے اس شعر میں مرزا غالب اپنے درد ِ دل کو خوبصورت انداز میں پیش کرنے کو بیان کر رہے ہیں۔
غزل سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح طلب شعر میں شاعر کہہ رہے ہیں کہ جب میں نے بہار یعنی اوج کے دنوں میں باغ کا دروہ کیا، دنیا کی محفلوں کی زینت بنا اور وہاں اپنا دردِ دل سنایا تو سب بلبل کی طرح اپنے دکھ کو غزل کر کے سنانے لگے۔ یہ شاعرانہ تعلی کا شعر کہلایا جا سکتا ہے۔ جس میں غالب نہ صرف اپنی تعریف کر رہے ہیں بلکہ اپنے دکھ کو خوبصورت انداز میں بھی پیش کر رہے ہیں۔ اُن کا شعر بیک وقت “آہ” بھی یے اور “واہ” بھی ہے۔
وہ باغ، بلبل، غزل خوانی جیسی علامات اور استعارات کو استعمال کرتے ہوئے اپنے دور اور اپنی زندگی کے الم بیان کر رہے ہیں۔ لیکن اس شعر کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ شعر بیک وقت کئی سارے معنی سمیٹے ہوئے ہے۔ جب غالب نے اپنے دکھ بیان کرنے شروع کیے تو باغ میں موجود بلبلیں جو گُل کے سامنے افریاد کیا کرتی تھیں، غزل سرائی پر اُتر آئیں۔ یعنی غالب کی موجودگی کا احساس اور اس کے بعد ان کے ہونے کا جادو ہی ایسا تھا کہ ، محبوب کو اپنے دکھ سنانے کا نہ صرف ایک سلسلہ بلکہ ایک دبستان یا تحریک ہی شروع ہو گئی۔ یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ شاعر کی آواز اور کلام میں اتنا اثر ہے کہ فطرت اور دنیا بھی اس سے متاثر ہو جاتی ہے۔
اس پوسٹ میں بارہویں جماعت کے اردو نصاب میں شامل مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں کی تشریح کا پہلا حصہ پیش کیا جا رہا ہے، جو طلبہ کے لیے سود مند ہو گا۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔
We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)
اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں
اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔ تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔ (علمو) اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمارے فیس بک ، وٹس ایپ ، ٹویٹر، اور ویب پیج کو فالو کریں، اور نئی آنے والی تحریروں اور لکھاریوں کی کاوشوں سے متعلق آگاہ رہیں۔
Follow us on
Discover more from Ilmu علمو
Subscribe to get the latest posts sent to your email.