امیر مینائی کی نظم حمد دوسرا کون ہے جہاں تو ہے کی تشریح

امیر مینائی کی نظم حمد دوسرا کون ہے جہاں تو ہے کی تشریح

امیر مینائی اردو ادب کے معروف شاعر تھے جن کی شاعری میں عشقِ حقیقی، تصوف اور خدا کی عظمت کا گہرا اظہار ملتا ہے۔ ان کی حمدیہ شاعری میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، قدرت اور اس کی ہمہ گیر موجودگی کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ زیرِ نظر حمد “دوسرا کون ہے جہاں تو ہے” بھی اسی فکر کی عکاس ہے۔ اس حمد میں شاعر نے اللہ تعالیٰ کی یکتائی، اس کی بے مثال قدرت اور کائنات کے ہر گوشے میں اس کی موجودگی کو نہایت سادہ مگر مؤثر الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ذیل میں امیر مینائی کی نظم حمد دوسرا کون ہے جہاں تو ہے کی تشریح پیش کی جا رہی ہے جس کے ذریعے اشعار کے مفہوم اور شاعر کے پیغام کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

امیر مینائی کی نظم حمد دوسرا کون ہے جہاں تو ہے کی تشریح
امیر مینائی کی نظم حمد دوسرا کون ہے جہاں تو ہے کی تشریح

امیر مینائی کی نظم حمد دوسرا کون ہے جہاں تو ہے کی تشریح

شعر1۔ دوسرا کون ہے جہاں تو ہے            کون جانے تجھے کہاں تو ہے

مفہوم۔ جہاں تو ہے وہاں کوئی اور موجود نہیں۔ کسی کو نہیں معلوم تیری حقیقی مقام کیا ہے۔
تشریح۔ یہ شعر امیر مینائی کی تحریر کردہ نظم، حمد “دوسرا کون ہے جہاں تو ہے”کا مطلع ہے۔ نظم حمد کے اس پہلے تشریح طلب شعر میں امیر مینائی اللہ تعالیٰ کی یکتائی اور بے مثالی کو بیان کر رہے ہیں۔ شاعر امیر مینائی سوال پوچھ کر خدا کی طاقت کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اے خداجہاں تو موجود ہے وہاں کسی دوسرے کے ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تُو تمام کائنات کا خالق ہے اور عرش بریں پر موجود ہے۔ تجھ تک آج تک کوئی بھی مخلوق ، کوئی شے نہیں پہنچ سکی۔ تیرے مقام کی برابری کوئی اور شے نہیں کر سکتی۔ جو تیرا مقام ہے اور کسی کا نہیں کیونکہ تو واحد و یکتا ہے۔
؎            کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے       دکھائی بھی جو نہ دے نظر بھی جو آ رہا ہے وہی خدا ہے
دوسرے مصرعے میں شاعر امیر مینائی ، بندۂ مومن بن کر اپنے عجز کا اعتراف کر رہے ہیں ۔ یہ طریقہ خدا کی قدرت کو بیان کرنے کے ساتھ اپنی عاجزی کا اعتراف بھی ہے۔ کہ اے خدا  تیری ذات کو عقلِ انسانی پوری طرح سمجھ نہیں سکتی۔  کیونکہ تو مکان، زمان اور جہات  کی پابندیوں سے ماورا ہے۔ یہ خالص توحیدی عقیدہ ہے۔
؎            ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پا سکے    اک دل ہی وہ جگہ ہے جہاں تو سما سکے
خدا کو دنیا کی حدود، سمتوں اور جہتوں میں تلاش نہیں کیا جا سکتا بلکہ اگر اس کا عرفان حاصل کرنا اور مقام جاننا ہو تو وہ صرف بندہ مومن کے دل کے ذریعے سے ہی ممکن ہے۔

شعر 2۔ لاکھ پردوں میں تو ہے بے پردہ                  سو نشانوں پہ بے نشاں تو ہے

مفہوم۔ اے خدا تو پردوں کے باجود ظاہر ہے اور ظاہر ہونے کے باوجود نظر نہیں آتا۔
تشریح۔ امیر مینائی کی نظم حمد کا یہ شعر خدا کی پہچان اور عرفان سے متعلق ہے۔ امیر مینائی کے مطابق اللہ تعالیٰ ظاہری آنکھوں سے پوشیدہ ہے۔ اُسے دیکھنا ہو تو عام آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ آنکھ اُس کا نور دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اگر ممکن ہوتا تو حضرت موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھی خدا کا نور دیکھ لیتے۔مگر ایسا نہ ہو سکا۔
شاعر اس حوالے سے پہلے شعر میں بھی بیان کر چکے ہیں ۔ “دوسرا کون ہے جہاں تو ہے ” کہتے ہوئے وہ یہ بات بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ خدا جہاں ہے وہاں کسی کی نظر نہیں پہنچ سکتی۔
اگرچہ خدا کی ذات نظر میں نہیں آتی  مگر اس کی قدرت اور صفات ہر شے میں نمایاں ہیں۔ ہم خدا کو اُس کی آیات یعنی نشانیوں کے ذریعے سے ہی پہچان سکتے ہیں۔ خدا وہی حقیقت ہے جسے علامہ اقبال لاکھ پردوں میں چھپا ہوا مانتے ہیں۔
ع         اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ
لیکن خدا کی ذات وہ ذات ہے جو لاکھ پردے ہونے کے باوجود ہر شے میں عکس دکھاتی ہے  اور اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔ کائنات میں اس کی بے شمار نشانیاں ہیں، مگر وہ خود کسی ایک نشان یا صورت میں محدود نہیں۔ یہ شعر اللہ کی تجلیات اور اس کی لا محدود ذات کی حمد ہے۔

یہاں امیر مینائی کی نظم حمد دوسرا کون ہے جہاں تو ہے کی تشریح پیش کی جا رہی ہے جس کے ذریعے اشعار کے مفہوم اور شاعر کے پیغام کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

شعر 3۔ تو ہے خلوت میں تو ہے جلوت میں               کہیں پنہاں کہیں عیاں تو ہے

مفہوم۔ تو تنہائی میں بھی ہے اور ہجوم میں بھی موجود ہے۔ کہیں ظاہر ہوتا ہے اور کہیں چھُپا ہوا ہے۔
تشریح۔ حمد کا یہ تشریح طلب شعر اللہ کی ہمہ گیری کو بیان کرتا ہے۔شاعر امیر مینائی کے مطابق خدا  بندے کی تنہائی میں بھی موجود ہے اور مجمع میں بھی۔خلوت اکیلے پن یا تنہائی کو کہتے ہیں۔ اور جلوت سب کے سامنے موجود ہونے کو۔ کوئی بھی انسان چاہے تنہائی میں ہو یا بھیڑ میں ، خدا کے سامنے ہی رہتا ہے۔ کوئی ایسا مقام ، مرحلہ ، موقع اور وقت  ایسا  نہیں   کہ انسان اس کی نظروں سے اوجھل ہو سکے۔ خدا کا علم ہر دم ہر انسان کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
خدا کی ذات عیاں بھی ہے اور پنہاں بھی ہے۔ کہیں اس کی ذات پوشیدہ ہے اور کہیں اس کی صفات بالکل صاف اور واضح سب کے سامنے ظاہر۔اور بلا شبہ اللہ ہر حال میں بندے کے ساتھ ہے، چاہے انسان اسے محسوس کرے یا نہ کرے۔

شعر 4۔ نہیں تیرے سوا یہاں کوئی            میزباں تو ہے مہماں تو ہے

مفہوم۔اس دنیا میں میزبان بھی خدا ہی ہے اور مہمان بھی خدا ہی ہے، اور اُس کے سوا کوئی اور چیز موجود نہیں۔
تشریح۔ امیر مینائی کی نظم حمد کا یہ تشریح طلب شعر کامل توحید کا اعلان ہے۔ امیر مینائی کے مطابق اس کائنات میں حقیقتاً خدا کے سوا اور کوئی بھی نہیں۔  خدا ہی ہے جو واحدہُ لا شریک ہے۔ اُس کا کوئی ثانی نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کا کوئی ہم سر نہیں۔ نہ اس کو کسی نے جَنا ہے نہ اس نے کسی کو جنا ہے۔  وہ ہر ایک شے کا حقیقی خالق و مالک ہے۔   یہی بات امیر مینائی نے نظم کے مطلع میں بھی ان الفاظ میں کہی کہ “دوسرا کون ہے جہاں تو ہے”۔ یعنی جو خدا کا مقام ہے وہ اور کسی کا بھی مقام اور مرتبہ ہو ہی نہیں سکتا۔
؎            تلاش اس کو نہ کر بتوں میں وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں        جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے وہی خدا ہے
ایک واحد خدا ہی ہے جو دینے والا ہے اور خدا ہی لینے والا، خدا ہی خالق ہے اور خدا ہی تمام کائنات کا نظام چلانے والاہے ۔ یہ کائنات خدا نے ہی بنائی اور اس کائنات کا حقیقی میزبان خدا ہی ہے۔ ہر شے تیری ہی ذات کا ظہور اور تیری ہی عطا ہے۔  اس کائنات کی محفل میں ہر آنے والی شے خدا ہی کی مرضی سے آتی ہے، یعنی اس کائنات میں آنے والا مہمان خدا ہی کی مرضی کا محتاج ہے۔   یہ کائنات اللہ نے بنائی اور اس محفل میں تمام مخلوقات کو مدعو کیا۔ یہاں تمام اشیا، خواہ وہ چھوٹی سے چھوٹی ہوں یا بڑی سے بڑی، اللہ تعالی ہی کی تخلیق اور اُسی کی مہمان ہیں۔

یہاں امیر مینائی کی نظم حمد دوسرا کون ہے جہاں تو ہے کی تشریح پیش کی جا رہی ہے جس کے ذریعے اشعار کے مفہوم اور شاعر کے پیغام کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

شعر 5۔ نہ مکاں میں نہ لا مکاں میں کچھ                   جلوہ فرما یہاں وہاں تو ہے

مفہوم۔لا مکاں اور مکاں دونوں مقامات حقیقت میں خدا کے بغیر کچھ نہیں ہیں۔ خدا ہر جگہ موجود ہے۔
تشریح۔ امیر مینائی کی نظم حمد دوسرا کون ہے جہاں تو ہے کا یہ تشریح طلب شعر فلسفیانہ انداز میں خدا کی قدرت کو بیان کر رہا ہے۔ یہاں مکاں اور لا مکاں کے مقامات کا تذکرہ موجود ہے۔ مکاں سے مراد تو یہ دنیا ہے جبکہ لا مکاں سے مراد وہ عالم ہے جو انسان کی نظروں سے اوجھل ہے۔ جتنی اشیا مکاں میں موجود ہیں وہ خدا ہی کی اجازت اور مرضی سے موجود ہیں اور جو  چیزیں اور مخلوقات لا مکاں میں موجود ہیں وہ بھی خدا ہی کی مرضی سے موجود ہیں۔ یہ تمام چیزیں اپنی حد سے تجاوز نہیں کرتیں۔ ان تمام چیزوں کو خدا کی مرضی اور قدرت نے روک کے رکھا ہوا ہے۔
دوسرے مصرعے میں یہ بات کی جا رہی ہے کہ اللہ نہ کسی جگہ میں محدود ہے اور نہ ہی لا مکانی کے تصور میں قید۔ وہ ہر جگہ جلوہ فرما ہے، مگر کسی جگہ کا محتاج نہیں۔ یہ شعر اللہ کی ذات کی وسعت اور بے قیدی کو بیان کرتا ہے، جو انسانی تصورات سے بالاتر ہے۔

شعر 6۔ رنگ تیرا یہ چمن میں بو تیری          خوب دیکھا تو باغباں تو ہے

مفہوم۔چمن میں تیرا عطا کیا ہوا رنگ بھی تا اور تیری ہی خوشبو بھی تھی۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ تُو ہی باغبان ہے جو چمن کو چلا رہا ہے۔
تشریح۔ امیر مینائی حمد کے اس شعر میں باغ کا تصور پیش کرتے ہوئے خدا کی قدرت کاملہ کو بیان کر رہے ہیں۔ تشریح طلب شعر میں اس کائنات کو چمن، اور خدا کو چمن کا باغباں کہا گیا ہے۔ جس طرح باغباں ، چمن کو بناتا ہے اُسی طرح خدا س کائنات کو بنانے والا ہے۔ اس کائنات کے یہ دلکش اور خوبصورت رنگ خدا کی قدرت کا عکاس ہیں۔ یہ سب خدا کہی کی  قدرت کو عیاں کر رہے ہیں۔ کائنات کا حسن، پھولوں کے رنگ اور خوشبو سب اللہ کی تخلیق اور اس کی صفات کا عکس ہیں۔
کائنات میں ظاہر ہونے والے رنگوں اور رنگین پھولوں سے نکنے والی خوش بو بتاتی ہے کہ خدا ہی اس کائنات کا نظام برقرار رکھے ہوئے ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کائنات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل باغباں بھی تو ہی ہے۔ یہ شعر قدرت کے حسن کے ذریعے خالق کی حمد ہے۔

یہاں امیر مینائی کی نظم حمد دوسرا کون ہے جہاں تو ہے کی تشریح پیش کی جا رہی ہے جس کے ذریعے اشعار کے مفہوم اور شاعر کے پیغام کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

شعر 7۔ محرمِ راز تو بہت ہیں امیرؔ               جس کو کہتے ہیں رازداں تو ہے

مفہوم۔ راز جاننے والے تو امیرؔ بہت ہیں لیکن راز رکھنے والا صرف اللہ ہی ہے۔
تشریح۔
امیر مینائی کی نظم حمد دوسرا کون ہے جہاں تو ہے کے مقطع میں شاعر اپنے تخلص کے ساتھ اعتراف کرتے ہیں کہ  اگرچہ دنیا میں بہت سے لوگ رازدار ہو سکتے ہیں، مگر دل کے اصل راز صرف اللہ ہی جانتا ہے۔  اس دنیا میں لوگوں کا ایک ہجوم ہے کہ جو راز دار ہوتے ہیں اور روازوں کو جانے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ راز کو راز ہی رکھیں۔ بلکہ ین ممکن ہے کہ وقت آنے پر وہ دھوکہ دے جائیں یا  راز کو راز نہ رکھ سکیں۔ لیکن صرف خدا ہے جو رازوں کو راز رکھنا جانتا ہے۔ وہ سب کچھ جانتا ہے اور کسی بھی شخص سے زیادہ جانتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ رازوں اور خامیوں کو چھپا کر رکھتا ہے۔
یہاں شاعر امیر مینائی اللہ کو ستار العیوب بھی کہہ رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ خدا راز جانتا ہے، انسان کی ہر اچھائی اور برائی سے با خبر ہے لیکن خدا ان برائیوں پر پردہ ڈالے ہوئے ہے۔ خدا کا بندہ کافر ہو، مشرک ہو، گناہ گار ہو، کچھ بھی ہو، خدا اُس پر اپنا کرم کیے ہوئے ہے اور اُسے مسلسل عطا کرتا رہتا ہے۔  خدا بندے کے حال سے پوری طرح باخبر ہے، وہی بشر کی فریاد سنتا ہے، اور اُسے عطا بھی کرتا ہے۔ یہ شعر بندگی، عاجزی اور اللہ پر کامل بھروسے کا شاندار اظہار ہے۔

اس آرٹیکل میں امیر مینائی کی نظم حمد دوسرا کون ہے جہاں تو ہے کی تشریح پیش کی گئی جس کے ذریعے اشعار کے مفہوم اور شاعر کے پیغام کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)

اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں

اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔  تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔ (علمو) اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر  معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمارے فیس بک ، وٹس ایپ ، ٹویٹر، اور ویب پیج کو فالو کریں، اور نئی آنے والی تحریروں اور لکھاریوں کی کاوشوں  سے متعلق آگاہ رہیں۔

Follow us on


Discover more from Ilmu علمو

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

error: Content is protected !!
Index