مومن خان مومن کی غزل اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا کی تشریح

مومن خان مومن کی غزل اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا کی تشریح

اردو ادب میں غزل کو ایک خاص مقام حاصل ہے، اور اس صنف میں مومن خان مومن کا نام بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی شاعری سادگی، گہرائی اور جذبات کی سچائی کا حسین امتزاج ہے جو قاری کے دل پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ زیرِ نظر پوسٹ میں ہم مومن خان مومن کی غزل اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا کی تشریح پیش کر رہے ہیں، جس میں عشق کی شدت، محبوب کی بے رخی، اور عاشق کے دل کی کیفیت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اس مضمون میں غزل کے ہر شعر کی تفصیلی تشریح، مشکل الفاظ کے معانی اور اس کے مفہوم کو آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے تاکہ طلبہ اور ادب کے شائقین اس کلام کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ یہ کاوش خاص طور پر تعلیمی مقاصد کے لیے تیار کی گئی ہے، جس سے قارئین نہ صرف اس غزل کے فنی محاسن سے واقف ہوں گے بلکہ اردو شاعری کی خوبصورتی کو بھی محسوس کر سکیں گے۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

مومن خان مومن کی غزل اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا کی تشریح
مومن خان مومن کی غزل اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا کی تشریح
مومن خان مومن کی غزل اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا کی تشریح

یہ غزل مومن خان مومن کی شاعری کا ایک نہایت خوبصورت نمونہ ہے جس میں محبت کے جذبات، درد، تنہائی اور انسانی بے بسی کو نہایت سادہ مگر پُراثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مومن خان مومن اردو غزل کے اُن شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کم الفاظ میں گہری بات کہنے کا ہنر کمال تک پہنچایا۔ ان کی شاعری میں سادگی، روانی اور دل نشینی نمایاں خصوصیات ہیں، جو قاری کے دل پر فوری اثر ڈالتی ہیں۔
اس غزل میں شاعر نے ایک عاشق کے دل کی کیفیت کو بیان کیا ہے جو اپنے محبوب کی بے رخی، لاپروائی اور دوری کی وجہ سے شدید کرب میں مبتلا ہے۔ شاعر جگہ جگہ اپنی بے بسی، ناکامی اور دل کے چھپے ہوئے درد کو بیان کرتا ہے۔ خاص طور پر محبوب کی عدم توجہی اور عاشق کی بے قراری اس غزل کا مرکزی موضوع ہے۔
مزید یہ کہ اس غزل میں تنہائی کے لمحات، یادِ محبوب، اور دل کے اندر چھپے ہوئے زخموں کو نہایت لطیف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ شاعر یہ بھی واضح کرتا ہے کہ انسانی ہمدردی محدود ہوتی ہے، جبکہ اصل سہارا صرف خدا کی ذات ہے۔
مختصراً یہ غزل محبت کے سچے جذبات، انسانی نفسیات اور دردِ دل کی عکاسی کرتی ہے اور مومن خام مومن  کے فن کی پختگی اور ان کے منفرد اسلوب کا بہترین اظہار ہے۔

شعر 1۔ اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا                 رنج راحت فزا نہیں ہوتا

مشکل الفاظ۔        رنج: دکھ، غم        راحت فزا: سکون دینے والا، راحت پہنچانے والا
مفہوم۔ محبوب کو تکلیف دیکھ کر  ذرا بھی اثر نہیں ہوتا۔ اس کا دیا ہوا غم کبھی سکون یا راحت کا باعث نہیں بنتا۔
تشریح۔ مومن خان مومن کی مشہور غزل اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا کا   یہ تشریح طلب شعر محبوب کے ناز کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کے مطابق  محبوب پر کسی بات کا ذرا سا بھی اثر نہیں ہوتا۔  محبوب ایک بُت کی طرح ہے بالکل بے حس، نہ وہ کوئی بات کہتا ہے، نہ ہی سُنتا ہے۔ عاشق چاہے دکھ اٹھائے یا خوشی دے، اُس محبوب کے رویّے میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔وہ اُدو غزل کی روایت  میں پیش کیے گئے محبوب کی طرح اپنے چاہنے والے محب کی طرف کوئی نظرِ کرم نہیں کرتا۔
اگر وہ پوچھ لیں ہم سے تمہیں کس بات کا غم ہے   تو پھر کس بات کا غم ہے اگر وہ پوچھ لیں ہم سے
عاشق کی تکلیف اور رنج سے بھی محبوب کے دل میں نرمی نہیں  آتی ۔ محبوب اپنے محب کو مسلسل نظر انداز کر رہا ہے۔ اور اِس مسلسل نظر اندازی کی وجہ سے عاشق تکلیف میں رہنے لگا ہے۔  اور اب یہ تکلیف اس شدت کی ہے کہ عاشق کو لگتا ہے کہ وہ اپنے محبوب کے بغیر مر جائے گا۔
اُن لبوں نے نہ کی مسیحائی               ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
اس شعر میں محبوب کی بے حسی اور عاشق کی بے بسی نمایاں ہے۔ عاشق کے تمام جذبات محبوب کے لیے بے معنی ہو چکے ہیں۔

اس پوسٹ میں ہم مومن خان مومن کی غزل اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا کی تشریح پیش کر رہے ہیں۔ اس مضمون میں غزل کے ہر شعر کی تفصیلی تشریح، مشکل الفاظ کے معانی اور اس کے مفہوم کو آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

شعر 2۔ بے وفا کہنے کی شکایت ہے              تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا

مشکل الفاظ۔        شکایت: شکوہ         وعدہ وفا: وعدہ نبھانے والا
مفہوم۔ تُو مجھے تو بے وفا کہتا ہے، لیکن تُو خود بھی وعدہ نبھانے ووالا نہیں ہے۔
تشریح۔ مومن خان مومن اپنی اس شہرہ آفاق غزل کے شعر میں خود احتسابی کا پہلو بھی سامنے لا رہے ہیں۔ وہ محبوب کو آئینہ دکھا رہے ہیں۔  اس شعر میں دراصل عشق کے میدان میں وفاداری اور بے وفائی کے ساتھ ساتھ وعدے، عہد و پیمان کا حوالے دیئے جا رہے ہیں ۔ غزل کی روایت میں جو بات بیان ہوتی چلی آئی ہےاور اس کے ساتھ ساتھ محبت میں وفا داری ہی ہے جو محبت کو جوڑے رکھنے کی وجہ بنتی ہے۔ کوئی بھی شخص تب ہی محبت میں کامیاب سمجھا جاتا ہے جب وہ محبت کو وفا کے ساتھ آگے بڑھائے۔
اسی حوالے سے مومن خان مومن کا بھی غزل کے اس شعر میں کہنا ہے کہ محبوب ہمیں بے وفا کہتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارا محبوب خود بھی تو وعدہ وفا نہیں کرتا۔  اگرچہ محبوب  ہم سے شکایت کرتا ہے اور صرف شکایت ہی نہیں کرتا بلکہ  ہم پر بے وفا ہونے کا الزام بھی لگاتا ہے، لیکن درحقیقت وہ خود اپنے قول پر عمل کرنے والا شخص نہیں ہے۔
میرے محبوب نے کیا ہے وعدہ پانچویں دن کا       کسی سےے سُن لیا ہو گا کہ دنیا چار دن کی ہے
اگر وعدہ ہی وفا کا نہیں تو بے وفائی کی شکایت کیسی؟  ہمیں بے وفا کہنے سے پہلے محبوب کو چاہیے کہ اپنے گریبان میں جھانکے۔ خود اپنا احتساب کر کہ وہ کیسا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ اس شعر میں طنز بھی ہے اور حقیقت پسندی بھی کہ تعلقات میں الزام یک طرفہ نہیں ہوتے۔

شعر 3۔ ذکر اغیار سے ہوا معلوم      حرفِ ناصح برا نہیں ہوتا

مشکل الفاظ۔        ذکرِ اغیار: غیروں کا ذکر        حرفِ ناصح: نصیحت کرنے والوں کی بات
مفہوم۔ اغیار یعنی رقیبوں کی باتوں سے ہمیں پتا چلا ہے جو لوگ ہمیں نصیحت کرتے تھے وہ سچے تھے۔
تشریح۔ غزل  کے اس شعر میں  مومن خان مومن عشق کے میدان میں آنے والی سختیوں اور مشکلوں کا احوال، اغیار اور رقیوبوں کی زبانی دینے کے ساتھ ساتھ روک ٹوک کرنے والوں اور نصیحت کرنے  والوں کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کر رہے ہیں۔
شاعر مومن خان کہتے ہیں کہ  ہمیں اغیار یعنی ہمارے رقیبوں نے آ کر بتایا ہے کہ ہمارا محبوب ان کے ساتھ محبت کے نام پر کتنا ظلم کرتا ہے۔ہمارے رقیب ، ہمارے محبوب سے محبت کرتے ہوئے ظلم سہتے رہتے ہیں اور تباہ حال ہو ئے ہیں۔  اب ہمیں سمجھ آئی کہ  نصیحت کرنے والے ہمیں عشق سے دور رہنے کا کیوں کہتے تھے۔ وہ تو ہمارے ہی بھلے کے لیے ہمیں محبت سے دور رہنے کا مشورہ دیتے تھے لیکن ہم پر عشق نے اپنا جادو چلایا ہوا تھا اور ہمیں کچھ بھی سمجھ نہیں آتی تھی۔
ہمیں غیر لوگوں کے تجربات اور باتوں سے یہ معلوم ہوا کہ نصیحت کرنے کی بات بری نہیں ہوتی۔ یعنی جو بات ناصح (نصیحت کرنے والا) کہتا ہے وہ اکثر درست ہوتی ہے، مگر عاشق اسے جذبات میں رد کر دیتا ہے۔ ناصح عاشق کو عشق سے دور رہنے کااور ہوش کے ناخن لینے کا کہتا ہے، مگر عاشق سب مشورہ دینے والوں کی باتوں کو سُنا ان سُنا کر دیتا ہے۔ وہ عشق کا ستایا ہوا ہوتا ہے اور عشق کی طرف جانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے اُس کا محبوب ہی سکون ہوتا ہے۔ لیکن یہی عشق اُس کی تباہی کی ایک بہت بڑی وجہ بن کر آتا ہے۔ عاشق عقل کی باتوں سے زیادہ اہمیت اپنے دلی اور عشق سے بھر جذبات کو دیتا ہے۔ دراصل  یہ شعر عقل اور عشق کے تصادم کو ظاہر کرتا ہے۔

شعر 4۔ تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے           ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

مشکل الفاظ۔        شکایت: شکوہ         وعدہ وفا: وعدہ نبھانے والا
مفہوم۔ تُو مجھے تو بے وفا کہتا ہے، لیکن تُو خود بھی وعدہ نبھانے ووالا نہیں ہے۔
تشریح۔مومن خان مومن کی غزل اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا کا یہ شعر زندگی کی الا حاصل اشیا اور نا میسر سے متعلق ہے۔ اس شعر میں  مومن حسرت اور شکوہ بھی  کرتے نظر آ رہے ہیں۔
شاعر مومن خان کہتے ہیں کہ اس دنیا میں سب کچھ ممکن ہو سکتا ہے،  ایک انسان کو سب کچھ مل سکتا ہے لیکن ایک چیز جو نہیں ہو پاتی وہ یہ ہے کہ عاشق کو اُس کا عشق ، محب کو اس کا محبوب کبھی نہیں مل پاتا۔
یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا    کسی کو ہم نہ  ملے اور ہم کو تو نہ ملا
یوں کہیے کہ “اے میرے محبوب! دنیا میں  لوگوں کو سب کچھ مل جاتا ہے مگر تم کسی بھی صورت میرے نہ ہو سکے”۔ یہ عاشق کی سب سے بڑی ناکامی اور محرومی ہے۔ عاشق کو دنیا میں  موجود ہر شے میسر ہے، لیکن اُس کی نظر میں اُن اشیا کی کوئی وقعت نہیں، کیونکہ شاعر کو صرف اس کا محبوب ہی سکون عطا کر سکتا۔
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے   حورانِ خُلد میں تیری صورت مگر ملے
شاعر کو سکون صرف محبوب کے در پر ملتا ہے، لیکن محبوب اپنے عاشق کو دھتکارتا ہے۔ اس دنیا میں سب کچھ ممکن ہے سوائے سچی محبت کے حصول کے۔ یہ شعر محبت کی بے بسی اور تقدیر کی سختی کو نمایاں کرتا ہے۔
اس پوسٹ میں ہم مومن خان مومن کی غزل اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا کی تشریح پیش کر رہے ہیں۔ اس مضمون میں غزل کے ہر شعر کی تفصیلی تشریح، مشکل الفاظ کے معانی اور اس کے مفہوم کو آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

شعر 5۔ ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہے                  تجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا

مشکل الفاظ۔        چرخ: آسمان
مفہوم۔ میری دعا ہے کہ چرخ نہ رہے، لیکن میری دعا قبول نہیں ہو پا رہی۔
تشریح۔ مومن خان مومن کی غزل کا یہ شعر تقدیر کی گردش اور تقدیر کے زندگی پر پڑنے والے اثر کے حوالے سے ہے۔یہاں شاعر تقدیر (چرخ) کو دشمن قرار دے رہے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ آسمان ہمارا دشمن ہے۔ آسمان کو اردو شاعری میں طاقت، قدرت، تقدیر کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ شاعر اپنی تقدیر کو کوس رہے ہیں۔
شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی             کہ مقدور تک تو دوا کر چلے
شاعر کے مطابق ہم لاکھ کوششیں کر لیں، لیکن چونکہ ہماری تقدیر میں ہی کچھ اچھا نہیں لکھا اس لیے ہمارے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہو پا رہا۔ اب ایک ہی حل ہے کہ ہم اور ہماری تقدیر کا اختتام ہو جائے۔ جس دن ہماری تقدیر کا آخری صفحہ سامنے آئے گا، ہم اُسی وقت اس دنا سے چلے جائیں گے۔ اور یہی ہم چاہتے ہیں۔ میں اپنی موت کی مسلسل دعائیں کر رہا ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ دعا قبول نہیں ہو پا رہی کہ میرا دشمن یعنی میری تقدیر کی موت واقعہ ہو جائے۔  یہ شعر تقدیر سے شکوہ ہے۔

شعر 6۔  تم مرے پاس ہوتے ہو گویا            جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

مشکل الفاظ۔        گویا: جیسے             دوسرا: کوئی اور شخص
مفہوم۔ جب میرے پاس کوئی اور نہیں ہوتا ، تب صرف م ہوتے ہو۔
تشریح۔ غزل کا یہ شعر تنہائی اور تنہائی میں یاد کا حسین بیان ہے۔ اس شعر کے حقیقی اور مجازی دونوں پہلو ہیں۔
عشق حقیقی کے اعتبار سے دیکھیں شاعر کہتا ہے کہ جب کوئی اور ساتھ نہیں ہوتا، تب بھی میرے پاس خدا ہوتا ہے۔ میں کبھی بھی تنہا نہیں ہو سکتا۔ خدا کی ذات مجھے ہر وقت دیکھ رہی ہے۔
خو دسے جو بات بھی کرتے ہیں خدا جانتا ہے       خود کلامی کہاں ممکن ہے کلیمی کہیے
عشق مجازی کے اعتبار سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاعر اپنے محبوب سے کہہ رہا ہے کہ میں تنہائی میں بھی تمہاری یادوں کے ہی ساتھ ہوتا ہوں۔ تمہاری یاد  کبھی مجھ سے جدا نہیں ہوتی۔ یہی میرا کُل سرمایہ ہے۔ تم مجھے اپنے پاس محسوس ہوتے ہو۔ یعنی تنہائی میں محبوب کی یاد سب سے زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ یہ عشق کی باطنی موجودگی کا اظہار ہے۔
دل کے آئینے میں ہے تصویر یار         جب بھی گردن جھکائی دیکھ لی
تمہاری یاد اور تمہاری تصویر ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے اور میرے دل پر نقش ہے جسے کوئی نہیں مٹا سکتا۔ یہ غزل عشق کی ناکامی، محبوب کی بے اثری، دل کی بربادی، اور انسان کی امید و ناامیدی کا آئینہ ہے۔
اس پوسٹ میں ہم مومن خان مومن کی غزل اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا کی تشریح پیش کر رہے ہیں۔ اس مضمون میں غزل کے ہر شعر کی تفصیلی تشریح، مشکل الفاظ کے معانی اور اس کے مفہوم کو آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)

اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں

اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔  تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔ (علمو) اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر  معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمارے فیس بک ، وٹس ایپ ، ٹویٹر، اور ویب پیج کو فالو کریں، اور نئی آنے والی تحریروں اور لکھاریوں کی کاوشوں  سے متعلق آگاہ رہیں۔

Follow us on


Discover more from Ilmu علمو

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

error: Content is protected !!
Index