نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس

Table of Contents

نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس

اردو ادب میں مرثیہ نگاری کو ایک منفرد اور بلند مقام حاصل ہے، اور اس صنف کو عروج تک پہنچانے میں میر انیس کا کردار نہایت اہم ہے۔ میر انیس نے اپنے مرثیوں میں واقعۂ کربلا کے مناظر کو اس قدر جاندار اور مؤثر انداز میں پیش کیا ہے کہ قاری خود کو ان واقعات کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ ان کی شاعری میں منظر نگاری، جذبات کی شدت اور زبان کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے۔ مرثیہ آمدِ صبح بھی میر انیس کا ایک شاہکار ہے، جس میں انہوں نے صبح کے دلکش مناظر کے ذریعے ایک پُرسکون اور حسین فضا قائم کی ہے، لیکن اسی فضا کے پس منظر میں کربلا کا وہ دردناک المیہ چھپا ہوا ہے جو آگے چل کر ظاہر ہوتا ہے۔ اس نظم کے پہلے بند میں فطرت کی خوبصورتی، صبح کی تازگی اور ماحول کی دلکشی کو نہایت دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ (نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس)
اس پوسٹ میں میر انیس کے تفصیلی مرثیے کے ایک حصے بعنوان “آمدِ صبح” کے حصہ اول کی تفصیلی تشریح پیش کی جا رہی ہے تاکہ طلبہ اور قارئین اس کے مفہوم کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس
نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس

نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس ۔ حصہ اول

بند 1۔
پھولا شفق سے چرخ پہ جب لالہ زارِ صبح
گل زارِ شب خزاں ہوا، آئی بہارِ صبح
کرنے لگا فلک زرِ انجم نثارِ صبح
سر گرمِ ذکرِ حق ہوئے طاعت گزارِ صبح
تھا چرخِ اخضری پہ یہ رنگ آفتاب کا
کھِلتا ہے جیسے پھول چمن میں گلاب کا
مشکل الفاظ کے معانی

شفق: سورج نکلنے یا غروب ہونے کے وقت آسمان کی سرخی
چرخ: آسمان
لالہ زار: سرخ پھولوں (لالہ) کا باغ
گلزار: پھولوں کا باغ
خزاں: زوال، پتوں کے جھڑنے کا موسم
بہار: تازگی، خوشحالی، پھولوں کا موسم
فلک: آسمان
زرِ انجم: ستاروں کی روشنی (گویا سونے جیسے چمکتے ہوئے ستارے)
نثار کرنا: قربان کرنا، لٹا دینا
سرگرمِ ذکرِ حق: اللہ کی یاد میں مشغول
طاعت گزار: عبادت کرنے والے
چرخِ اخضری: سبز مائل آسمان
آفتاب: سورج

 تشریح بند 1۔

نظم آمد صبح کے اس تشریح طلب بند میں شاعر میر انیس صبح کے سماں کی منظر کشی کرتے نظر آتے ہیں۔ مرثیے کے ابتدائی بند میں منظر کو نہایت حسین اور دلکش صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔
نظم آمد صبح کے بند میں میر انیس کہتے ہیں کہ  جب صبح نمودار ہوتی ہے تو آسمان پر سورج کی کرنوں کی وجہ سے سرخی پھیل جاتی ہے، جیسے کوئی لالہ زار کھِل اٹھا ہو۔ رات کی تاریکی ، بہار کے آنے پر اور خزاں کی طرح ختم ہونے کا منظر پیش کرتی ہے اور اس کی جگہ تازہ اور خوشگوار صبح کی بہار آ جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں رات کا گلزار خزاں کا منظر پیش کرتا ہے، یعنی رات کی تاریکی ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ تازگی اور روشنی لے لیتی ہے۔ ستارے مدھم ہو کر ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے آسمان اپنی چمک صبح پر نچھاور کر رہا ہو۔ اسی وقت عبادت گزار لوگ اللہ کی یاد میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ سورج کی روشنی سبز مائل آسمان پر اس طرح نمودار ہوتی ہے جیسے باغ میں گلاب کا پھول کھل رہا ہو۔

نظم اس بند کے آخری مصرعوں میں میر انیس سورج کے طلوع ہونے کا منظر نہایت خوبصورت تشبیہ کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔ میر انیس کہتے ہیں کہ سبز مائل آسمان پر سورج کی روشنی اس طرح ظاہر ہوتی ہے جیسے کسی باغ میں گلاب کا پھول کھلتا ہے۔ یہ تشبیہ نہ صرف منظر کی خوبصورتی کو بڑھاتی ہے بلکہ قاری کے ذہن میں ایک جاندار تصویر بھی قائم کرتی ہے۔
مجموعی طور پر اس بند میں فطرت کی خوبصورتی، صبح کی تازگی اور روحانی فضا کو بڑی مہارت سے پیش کیا گیا ہے، جو میر انیس کی اعلیٰ منظر نگاری کا بہترین نمونہ ہے۔ آمد صبح کے اس بند میں میر انیس نے صبح کے حسین اور دلکش منظر کو نہایت خوبصورتی ، اور بھر پور  فنی مہارت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

(نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس)
اس پوسٹ میں میر انیس کے تفصیلی مرثیے کے ایک حصے بعنوان “آمدِ صبح” کے حصہ اول کی تفصیلی تشریح پیش کی جا رہی ہے تاکہ طلبہ اور قارئین اس کے مفہوم کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

بند 2۔
چلنا وہ بادِ صبح کے، جھونکوں کا دم بہ دم
مرغانِ باغ کی وہ خوش الحانیاں بہم
وہ آب و تابِ نہر، وہ موجوں کا پیچ و خم
سردی ہوا میں پر نہ زیادہ بہت نہ کم
کھا کھا کے اوس اور بھی سبزہ ہرا ہوا
تھا موتیوں سے دامنِ صحرا بھرا ہوا
مشکل الفاظ کے معانی

بادِ صبح: صبح کی ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا
دم بہ دم: مسلسل، بار بار
مرغانِ باغ: باغ کے پرندے
خوش الحانیاں: سریلی اور دلکش آوازیں
بہم: اکٹھی، ایک ساتھ
آب و تاب: چمک دمک، خوبصورتی
پیچ و خم: لہروں کا مڑنا اور بل کھانا
اوس: شبنم، صبح کے وقت گھاس پر پڑنے والے پانی کے قطرے
سبزہ: گھاس، ہریالی
دامنِ صحرا: صحرا کی زمین یا پھیلاؤ

تشریح بند 2۔

میر انیس کے مرثیے/ نظم آمد صبح کے اس بند میں شاعر صبح کے وقت ، فطرت کے حسین مناظر کو نہایت دلکش اور جاندار انداز میں پیش کرتے ہیں۔ شاعر میر انیس سب سے پہلے صبح کی ہوا  یعنی بادِ صبح کا ذکر کرتے ہیں جو ہلکے ہلکے جھونکوں کے ساتھ مسلسل چل رہی ہے۔ “دم بہ دم” کے الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہوا وقفے وقفے سے نہیں بلکہ مسلسل بہہ رہی ہے، جس سے ماحول میں تازگی اور خوشگواری پیدا ہو رہی ہے۔
اس کے بعد میر انیس باغ کے پرندوں کی آوازوں کا ذکر کرتے ہیں۔ “مرغانِ باغ” کی “خوش الحانیاں” یعنی سریلی آوازیں فضا کو موسیقیت سے بھر دیتی ہیں۔ یہ آوازیں ایک ساتھ مل کر ایک دلکش سماں پیدا کرتی ہیں، جو فطرت کی ہم آہنگی اور حسن کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس منظر سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری کائنات ایک خوشگوار نغمہ گا رہی ہو۔
اگلے مصرعے میں شاعر نہر کے پانی کی چمک اور لہروں کے پیچ و خم کو بیان کرتے ہیں۔ پانی کی لہریں مڑتی اور بل کھاتی ہوئی نہایت خوبصورت منظر پیش کرتی ہیں۔ “آب و تاب” سے پانی کی چمک دمک اور دلکشی واضح ہوتی ہے، جو صبح کی روشنی میں مزید نکھر جاتی ہے۔

شاعر پھر موسم کی کیفیت بیان کرتا ہے کہ ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک ہے، جو نہ زیادہ ہے اور نہ کم، بلکہ بالکل معتدل اور خوشگوار ہے۔ یہ اعتدال فطرت کے حسن کو مزید بڑھا دیتا ہے اور انسان کے لیے سکون کا باعث بنتا ہے۔
آخری دو مصرعوں میں شاعر شبنم کے قطروں کا ذکر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ شبنم کی نمی سے سبزہ اور زیادہ ہرا بھرا ہو گیا ہے۔ گھاس پر جمی ہوئی اوس کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے ہیں، جس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صحرا کا دامن موتیوں سے بھر گیا ہو۔
مجموعی طور پر اس بند میں میر انیس نے صبح کے وقت کی تازگی، فطرت کی دلکشی اور ماحول کی لطافت کو نہایت خوبصورت تشبیہوں اور استعارات کے ذریعے پیش کیا ہے، جو قاری کے ذہن میں ایک جاندار اور دلکش تصویر قائم کر دیتا ہے۔

(نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس)
اس پوسٹ میں میر انیس کے تفصیلی مرثیے کے ایک حصے بعنوان “آمدِ صبح” کے حصہ اول کی تفصیلی تشریح پیش کی جا رہی ہے تاکہ طلبہ اور قارئین اس کے مفہوم کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

بند 3۔
وہ نورِ صبح ، اور وہ صحرا ، وہ سبزہ زار
تھے طائروں کے غول درختوں پہ بے شمار
چلنا نسیم صبح کا رہ رہ کے بے شمار
کُو کُو وہ قمریوں کی وہ طاؤس کی پُکار
وا تھے دریچے باغِ بہشتِ نسیم کے
ہر سُو رواں تھے دشت میں جھونکے نسیم کے
مشکل الفاظ کے معانی

نورِ صبح: صبح کی روشنی
سبزہ زار: ہری بھری زمین
طائروں کے غول: پرندوں کے جھنڈ
نسیمِ صبح: صبح کی ٹھنڈی اور نرم ہوا
رہ رہ کے: وقفے وقفے سے، بار بار
قمری: ایک پرندہ (فاختہ/کبوتر جیسا)
طاؤس: مور
پُکار: آواز
وا: کھلے ہونا
دریچے: کھڑکیاں
باغِ بہشت: جنت کا باغ
جھونکے: ہوا کے ہلکے جھٹکے

تشریح بند 3۔

نظم آمد صبح کے اس تشریح طلب بند میں میر انیس نے صبح کے وقت  ، فطرت کے نہایت دلکش، پُرسکون اور جاندار مناظر کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ شاعر سب سے پہلے صبح کی روشنی، وسیع صحرا اور ہرے بھرے سبزہ زار کا ذکر کرتے ہیں۔ “نورِ صبح” سے مراد وہ نرم اور دلکش روشنی ہے جو سورج نکلنے کے وقت زمین پر پھیلتی ہے۔ یہ روشنی پورے ماحول کو روشن اور خوشگوار بنا دیتی ہے، جبکہ صحرا اور سبزہ زار مل کر ایک حسین منظر پیش کرتے ہیں۔
دوسرے مصرعے میں میر انیس کہتے ہیں کہ درختوں پر پرندوں کے بے شمار جھنڈ موجود ہیں۔ یہ پرندے فطرت کی زندگی اور حرکت کی علامت ہیں۔ ان کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ ماحول زندگی سے بھرپور اور خوشحال ہے۔
تیسرے مصرعے میں صبح کی نرم اور ٹھنڈی ہوا یعنی “نسیمِ صبح” کا ذکر کیا گیا ہے، جو وقفے وقفے سے چلتی ہے اور ماحول کو مزید خوشگوار بناتی ہے۔ یہ ہوا نہایت لطیف اور تازگی بخش ہے، جو انسان کے دل کو سکون دیتی ہے۔
چوتھے مصرعے میں قمریوں کی “کو کو” اور مور کی پکار کا ذکر ہے۔ یہ پرندوں کی مختلف آوازیں فضا میں ایک قدرتی موسیقی پیدا کرتی ہیں، جو صبح کے حسن کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پوری فطرت ایک نغمہ گا رہی ہو۔
پانچویں مصرعے میں شاعر ایک خوبصورت استعاراتی منظر پیش کرتا ہے کہ گویا جنت کے باغ کے دریچے کھل گئے ہوں۔ یعنی ماحول اس قدر خوشگوار، ٹھنڈا اور دلکش ہے کہ وہ جنت کا منظر پیش کر رہا ہے۔
آخری مصرعے میں شاعر کہتے ہیں کہ ہر طرف صحرا میں نسیم کے جھونکے چل رہے ہیں۔ یہ ہوا پورے ماحول میں پھیلی ہوئی ہے اور ہر سمت تازگی اور سکون کا احساس پیدا کر رہی ہے۔
مجموعی طور پر اس بند میں میر انیس نے فطرت کے حسن، پرندوں کی چہچہاہٹ، ٹھنڈی ہوا اور جنت جیسے ماحول کو نہایت دلکش انداز میں پیش کیا ہے، جو قاری کو ایک پُرسکون اور خوبصورت دنیا میں لے جاتا ہے۔

(نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس)
اس پوسٹ میں میر انیس کے تفصیلی مرثیے کے ایک حصے بعنوان “آمدِ صبح” کے حصہ اول کی تفصیلی تشریح پیش کی جا رہی ہے تاکہ طلبہ اور قارئین اس کے مفہوم کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)

اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں

اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔  تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔ (علمو) اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر  معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمارے فیس بک ، وٹس ایپ ، ٹویٹر، اور ویب پیج کو فالو کریں، اور نئی آنے والی تحریروں اور لکھاریوں کی کاوشوں  سے متعلق آگاہ رہیں۔

Follow us on

 


Discover more from Ilmu علمو

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

error: Content is protected !!

Table of Contents

Index