مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں مکمل متن

مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں مکمل متن

مرزا غالب کی غزل سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں مکمل متن مرزا غالبؔ کی غزل “سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں” اردو شاعری کی مشہور، نہایت اہم اور فکری غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس غزل میں غالبؔ نے کائنات کی وسعت، انسانی زندگی کی ناپائیداری،

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں۔ مرزا غالب

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں۔ مرزا غالب

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں۔ مرزا غالب   مرزا غالب کی غزل “دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے” کے اشعار کی تشریح میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے تشریح مرزا غالب اس شعر میں محبوب کی روایتی عدم توجہی  اور تغافل کا شکوہ کر رہیں ہیں۔

ہم مشتاق وہ بے زار۔ مرزا غالب

ہم مشتاق وہ بے زار۔ مرزا غالب

ہم مشتاق وہ بے زار۔ مرزا غالب مرزا غالب کی غزل “دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے” کے اشعار کی تشریح   شعر 2۔ دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بے زار یا الہی یہ ماجرا کیا ہے تشریح۔ دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے اس شعر میں شاعر اپنے

error: Content is protected !!