امجد اسلام امجد کی نظم نئی نسل کا نوحہ

امجد اسلام امجد کی نظم نئی نسل کا نوحہ

“نئی نسل کا نوحہ” معروف شاعر امجد اسلام امجد کی ایک نہایت فکر انگیز اور حقیقت پسندانہ نظم ہے، جس میں انہوں نے جدید دور کے نوجوان کی ذہنی کیفیت، فکری انتشار اور معاشرتی تضادات کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ نظم دراصل ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو تعلیم، عقائد اور اقدار کے درمیان الجھا ہوا ہے اور اپنی شناخت اور مقصدِ حیات کی تلاش میں سرگرداں ہے۔
اس پوسٹ میں امجد اسلام امجد کی نظم نئی نسل کا نوحہ پیش کی گئی ہے۔ مزید ادبی فن پاروں، نظموں اور غزلوں کے متعلق جاننے کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔

یہاں امجد اسلام امجد کی نظم “نئی نسل کا نوحہ” کا مکمل متن واضح انداز میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہ نظم طلبہ کے لیے نہایت اہم ہے اور وفاقی تعلیمی بورڈز کے نصاب میں شامل ہے۔ اگلے پوسٹ میں اس غزل کی تشریح بھی پیش کی گئی ہے۔ اگر آپ اس نظم کی تشریح، خلاصہ یا سوالات بھی پڑھنا چاہتے ہیں تو وہ بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
کی صورت میں اردو  کے نصاب میں شامل ہے۔FBISE Class 12 (Second Year) Urdu Nazmیہ نظم

امجد اسلام امجد کی نظم نئی نسل کا نوحہ
امجد اسلام امجد کی نظم نئی نسل کا نوحہ

نئی نسل کا نوحہ

میں سوچتا ہوں
لکھا ہے جو کچھ، پڑھا ہے جو کچھ وہ کس لیے تھا
کہاں سے پوچھوں
وہ کس لیے ہے کسے بتاؤں

مجھے عقیدوں کے خواب دے کر کہا گیا،ان میں روشنی ہے
چمکتی قدروں کی چَھب دکھا کر مجھے بتایا یہ زندگی ہے
سکھائے مجھ کو کمال ایسے
یقیں نہ لا ئیں سکھانے والے اگر انہیں کو میں جا سناؤں
میں کہنہ آنکھوں کی دسترس میں نئے مناظر کہاں سے لاؤں
کہاں پہ جنسِ کمال رکھوں، خیالِ تازہ کہاں سجاؤں
زمین پاؤں تلے نہیں ہے،تو کیسے ستاروں کی سمت جاؤں

پرانی قدریں جو محترم ہیں
انھیں سنبھالوں یا آنے والے نئے عقیدوں کا بھید پاؤں
وہ سب عقیدے،تمام قدریں ،خیال سارے
جو مجھ کو سِکّے بنا کے بخشے گئے تھے میرے حواسِ خمسہ سے معتبر تھے
جب ان کو رہبر بنا کے نکلا
تو میں نے دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں کچھ نہیں ہے
میں ایسے بازار میں کھڑا ہوں جہاں کرنسی بدل چکی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس پوسٹ میں امجد اسلام امجد کی نظم نئی نسل کا نوحہ پیش کی گئی ہے۔ مزید ادبی فن پاروں، نظموں اور غزلوں کے متعلق جاننے کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔

امجد اسلام امجد اپنی شاعری میں ہمیشہ سادہ مگر گہرے اسلوب کے ذریعے پیچیدہ موضوعات کو بیان کرتے ہیں۔ اس نظم میں بھی انہوں نے نئی نسل کے اس مسئلے کو اجاگر کیا ہے کہ انہیں جو کچھ سکھایا جاتا ہے، وہ عملی زندگی میں اکثر غیر مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان ایک ایسے مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں جہاں انہیں سمجھ نہیں آتی کہ وہ پرانی اقدار کو اپنائیں یا نئے نظریات کو قبول کریں۔

یہاں امجد اسلام امجد کی نظم “نئی نسل کا نوحہ” کا مکمل متن واضح انداز میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہ نظم طلبہ کے لیے نہایت اہم ہے اور وفاقی تعلیمی بورڈز کے نصاب میں شامل ہے۔ اگلے پوسٹ میں اس غزل کی تشریح بھی پیش کی گئی ہے۔ اگر آپ اس نظم کی تشریح، خلاصہ یا سوالات بھی پڑھنا چاہتے ہیں تو وہ بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
کی صورت میں اردو  کے نصاب میں شامل ہے۔FBISE Class 12 (Second Year) Urdu Nazmیہ نظم
مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)

اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں

اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔  تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔ (علمو) اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر  معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمارے فیس بک ، وٹس ایپ ، ٹویٹر، اور ویب پیج کو فالو کریں، اور نئی آنے والی تحریروں اور لکھاریوں کی کاوشوں  سے متعلق آگاہ رہیں۔

Follow us on


Discover more from Ilmu علمو

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

error: Content is protected !!
Index