لفظ کے مختلف معنی۔ الفاظ کے مختلف معانی

لفظ کے مختلف معنی۔ الفاظ کے مختلف معانی

زبانوں کے علم میں یہ بات بہت عام ہے کہ الفاظ کے ایک سے زیادہ معانی ہوتے ہیں اور ہو سکتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں الفاظ کے مختلف معانی (لغوی، مجازی، مرادی، تہذیبی، اصطلاحی، کنایاتی) اور ان کی نوعیت کے متعلق جاننے کی کوشش کی جائے گی۔ مزید معلومات کے لیے ہمارا ویب صفحہ علمو ملاحظہ کیجیے۔

لغوی معنی

کسی بھی لفظ کے اصلی اور حقیقی معنی کو لغوی معنی کہا جاتا ہے۔ لغوی معنی سے مراد وہ معانی ہیں جو لفظ کے مزاج اور مادے کے متعلق لغت میں پائے جاتے ہیں۔ لغوی معنی یہ بتاتا ہے کہ لفظ کی اصل کیا ہے، اس کا مادہ کیا ہے، یہ کونسی زبان سے آیا ہے، حقیقی اور بنیادی طور پر کس معنی میں استعمال ہوتا ہے، مذکر ہے یا مونث، اور جملے میں کیسے برتا جا سکتا ہے وغیرہ۔
مثلا لغت میں لفظ “چال” کا معنی “چلنا” ہو گا جبکہ اس کا ماخذ ہندی بتایا جاتا ہے۔ اسی طرح “مثلث” کا معنی “تین والا/والی”، اصل “ثلث” یعنی “تین” جبکہ ماخذ عربی بتایا گیا ہے۔

اصطلاحی معنی

کسی خاص علم، شعبے یا حلقے میں کسی لفظ کے پائے جانے والے خاص معانی اصطلاح کہلاتے ہیں۔ اصطلاح کو انگریزی زبان میں “ٹرمنولوجی” یا مختصرا “ٹرم” بھی کہا جاتا ہے۔ مثلث ہی کی مثال لی جائے تو جیومیٹری میں مثلث تین کونوں والی ساخت ہوتی ہے، شاعری میں یہ تین مصرعوں والا بند ہو گا۔ اسی طرح شطرنج کے کھیل میں مہروں کا چلنا “چال” کہلاتا ہے۔

مجازی معنی

مجاز عربی زبان میں جھوٹ یا غیر حقیقی کو کہتے ہیں۔ کسی لفظ کو حقیقی معنی کے بجائے، کسی اور، مجازی یا غیر حقیقی معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ چال کا معنی رویہ یا روش لینا اور شیر کا معنی بہادر لینا، مجازی معنی کا بیان ہی ہے۔

مرادی معنی

کسی لفظ کو ایک نیا معنی عطا کرنا مرادی معنی کہلاتا ہے۔ کسی لفظ سے بولنے والے کی مراد کیا ہے، مرادی معنی کے ذیل میں آئے گی۔ کوئی شخص لڑکا کہہ کر بزرگ مراد لے، یا بزرگ کہہ کر سال دو سال بڑا مراد لے۔ چال کہہ کر چلنے کا انداز مراد لے یا بات کرنے کا انداز، مرادی معنی کی ذیل میں دیکھا جا سکتا ہے۔

تہذیبی معنی

کسی لفظ کو کسی خاص تہذیب سے وابستہ کرتے ہوئے مخصوص معنی میں استعمال کرنا تہذیبی معنی کی ذیل میں آتا ہے۔ عموما ایسا بھی ہوتا کہ علاقائی تہذیبیں لفظ کو خاص معنی دے دیتی ہیں۔ صرف معنانی ہی نہیں بلکہ تہذیبی الفاظ کو بناتی بھی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان میں رد و بدل بھی پیدا کرتی ہیں۔ چونکہ تہذیبیں خود بہت سے خارجی عناصر اور عوامل پر انحصار کرتی ہیں ہیں اسی لیے یہ تمام عوامل لفظوں کو بنانے اور انہیںنت نئے معانی دینے کی وجہ بن جاتے ہیں۔ سیاسی حالات، معاشی حالات، تاریخی واقعات، سماجی رویے، علوم و فنون، ایجادات، معاشرتی رجحانات سبھی کسی خاص معاشرے اور تہذیب میں لفظوں کو معانی عطا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسقصد کے لیے لفظ “استاد” کا مشاہدہ کیا جائے تو احساس ہو گا کہ کس طرح مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور معاشروں میں یہ لفظ الگ الگ طرح سے استعمال ہوا ہے۔ آج کل کے پاکستانی معاشرے میں یہ لفظ موٹر مکینک سے لے کر سڑک پر کسی بھی چلتے پھرتے شخص کے لیے استعمال ہوتا نظر آتا ہے۔ تاہم تاریخ میں دیکھا جائے تو چند خاص لوگوں کو یہ بطور خطاب نوازا جاتا تھا۔

کنایاتی معنی

کنایہ سے مراد چھپی ہوئی بات کہنا ہے۔ کنایہ علم بیان کی اصطلاح اور تکنیک ہے۔ لفظ کو حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں ایسے استعمال کرنا کہ حقیقی اور مجازی دونوں معانی مراد لیے جا سکیں، کنایہ ہے۔ “بال سفید ہونا” کا حقیقی معنی بھی مراد لیا جا سکتا ہے، جبکہ اس کا کنایاتی معنی بوڑھا ہو جانا ہے۔ کنایاتی معنی میں حقیقی اور مجازی معنی بیک وقت موجود ہوتے ہیں۔

(تحریر : ع حسین زیدی)

We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)

اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں


اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔  تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔ Ilmu علموبابا

اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر  معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔

 

Follow us on


Discover more from Ilmu علمو

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

error: Content is protected !!
Index