نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس
اردو ادب میں مرثیہ نگاری کو ایک منفرد اور بلند مقام حاصل ہے، اور اس صنف کو عروج تک پہنچانے میں میر انیس کا کردار نہایت اہم ہے۔ میر انیس نے اپنے مرثیوں میں واقعۂ کربلا کے مناظر کو اس قدر جاندار اور مؤثر انداز میں پیش کیا ہے کہ قاری خود کو ان واقعات کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ ان کی شاعری میں منظر نگاری، جذبات کی شدت اور زبان کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے۔ مرثیہ آمدِ صبح بھی میر انیس کا ایک شاہکار ہے، جس میں انہوں نے صبح کے دلکش مناظر کے ذریعے ایک پُرسکون اور حسین فضا قائم کی ہے، لیکن اسی فضا کے پس منظر میں کربلا کا وہ دردناک المیہ چھپا ہوا ہے جو آگے چل کر ظاہر ہوتا ہے۔ اس نظم کے پہلے بند میں فطرت کی خوبصورتی، صبح کی تازگی اور ماحول کی دلکشی کو نہایت دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ (نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس)
اس پوسٹ میں میر انیس کے تفصیلی مرثیے کے ایک حصے بعنوان “آمدِ صبح” کے حصہ دوم کی تفصیلی تشریح پیش کی جا رہی ہے تاکہ طلبہ اور قارئین اس کے مفہوم کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس ۔ حصہ دوم
بند 4۔
آمد وہ آفتاب کی وہ صبح کا سماں
تھا جس کی ضو سے وجد میں طاؤس ِ آسماں
ذروں کی روشنی پہ ستاروں کا تھا گماں
نہرِ فرات بیچ میں تھی مثلِ کہکشاں
ہر نخل پر ضیائے سرِ کوہِ طور تھی
گویا فلک سے بارشِ بارانِ نور تھی
مشکل الفاظ کے معانی۔
آفتاب: سورج
سماں: منظر، ماحول
ضو: روشنی، چمک
وجد: خوشی یا کیف کی شدید کیفیت
طاؤسِ آسماں: آسمان کا مور (استعارہ، یعنی آسمان کی خوبصورتی)
ذرے: مٹی کے چھوٹے ذرات
گماں: خیال، شبہ
نہرِ فرات: دریائے فرات
مثلِ کہکشاں: آسمان کی کہکشاں
نخل: کھجور کا درخت
ضیائے سرِ کوہِ طور: کوہِ طور کی روشنی (حضرت موسیٰؑ کو نظر آنے والی تجلی)
فلک: آسمان
بارانِ نور: نور کی بارش
تشریح بند 4۔
میر انیس کے مرثیے آمد صبح کے اس تشریح طلب بند میں میدانِ کربلا میں صبح کے وقت کے ایک نہایت شاندار اور نورانی منظر کو ، انتہائی فنی مہارت اور کمال کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ شاعر میر انیس سب سے پہلے سورج کے طلوع ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب آفتاب نمودار ہوا تو ایک دلکش اور روح پرور منظر پیدا ہو گیا۔ “صبح کا سماں” سے مراد وہ حسین ماحول ہے جو سورج کے نکلنے سے وجود میں آتا ہے۔ اس روح پرور منظر کو دیکھ کر آسمان ، فلک اور جنت میں موجود پرندے بھی حیران ہو گئے۔ حیرت سے “طاؤسِ آسماں” بھی وجد کی کیفیت میں آ گیا۔ دوسرے مصرعے میں میر انیس سورج کی روشنی ، اس کی دلکشی اور مسحور کن حالت کو بیان کرتے ہوئے “طاؤسِ آسماں” یعنی آسمان کے وجد میں آ جا نے کو بیان کرتے ہیں۔ یہاں مور کو خوشی اور حسن کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، جو خوشی میں رقص کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ فطرت کا ہر عنصر اس منظر سے متاثر اور مسرور نظر آ رہا تھا۔
اگلے مصرعے میں شاعر بیان کرتے ہیں کہ زمین کے ذرات سورج کی روشنی میں اس طرح چمک رہے تھے کہ دیکھنے والے کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے زمین پر ستارے بکھرے ہوئے ہوں۔ یہ ایک نہایت خوبصورت تشبیہ ہے جو منظر کی چمک اور دلکشی کو بڑھاتی ہے۔ اگلے مصرعے میں نہرِ فرات کا ذکر ہے، جو درمیان میں اس طرح بہہ رہی تھی جیسے آسمان پر کہکشاں پھیلی ہوئی ہو۔ پانی کی چمک اور بہاؤ کو کہکشاں سے تشبیہ دینا شاعر کی بلند تخیل کی علامت ہے۔ پانچویں مصرعے میں میر انیس کہتے ہیں کہ ہر کھجور کے درخت پر ایسی روشنی پڑ رہی تھی جیسے کوہِ طور پر جلوہ گر ہونے والی نورانی تجلی ہو۔ یہ ایک مذہبی اور روحانی اشارہ ہے جو منظر کو مزید مقدس اور باوقار بنا دیتا ہے۔ اور آخری مصرعے میں شاعر اس منظر کو اور بھی بلند سطح پر لے جاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آسمان سے نور کی بارش ہو رہی ہو۔ یعنی ہر طرف روشنی ہی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
مجموعی طور پر اس بند میں میر انیس نے صبح کے نورانی، روحانی اور دلکش منظر کو نہایت بلند تخیل، خوبصورت تشبیہوں اور پراثر انداز میں بیان کیا ہے، جو ان کی عظیم فنکارانہ صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔
(نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس)
اس پوسٹ میں میر انیس کے تفصیلی مرثیے کے ایک حصے بعنوان “آمدِ صبح” کے حصہ دوم کی تفصیلی تشریح پیش کی جا رہی ہے تاکہ طلبہ اور قارئین اس کے مفہوم کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔
بند 5۔
اوجِ زمیں سے پست تھا، چرخِ زبر جدی
کوسوں تھا سبزہ زار سے، صحرا زمردی
ہر خشک و تر پہ تھا ، کرمِ بحرِ سرمدی
بے آب تھے مگر دُرِ دریائے احمدیؐ
روکے ہوئے تھی، نہر کو اُمت رسولؐ کی
سبزہ ہرا تھا، خشک تھی کھیتی بتولؑ کی
مشکل الفاظ کے معانی۔
اوجِ زمیں: زمین کی بلندی/عروج
پست: نیچا، کم تر
چرخِ زبر جدی: بلند آسمان
کوسوں: بہت دور تک، میلوں تک
سبزہ زار: ہری بھری زمین
صحرا زمردی: زمرد (سبز پتھر) کی مانند سبز صحرا
خشک و تر: خشک اور تر، ہر چیز
کرمِ بحرِ سرمدی: ہمیشہ رہنے والی (خدائی) رحمت
بے آب: پانی کے بغیر، پیاسے
دُرِ دریائے احمدیؐ: حضور اکرم ﷺ کے دریا کے موتی (اہلِ بیتؑ)
روکے ہوئے: بند کیے ہوئے
امتِ رسولؐ: رسول ﷺ کی امت
کھیتی بتولؑ کی: حضرت فاطمہؑ کی اولاد (اہلِ بیتؑ)
تشریح بند 5۔
نظم آمد صبح کے اس بند میں میر انیس نے دو مختلف اور متضاد پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔ میر انیس نہایت گہرے اور دردناک انداز میں کربلا کے المیے کو قدرت اور فطرت کی خوبصورتی کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتے ہیں کہ زمین کی خوبصورتی اور دلکشی اس قدر بڑھ گئی تھی کہ بلند آسمان بھی اس کے مقابلے میں کم تر محسوس ہو رہا تھا۔ یہ مبالغہ زمین کے حسن کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
دوسرے مصرعے میں بیان ہے کہ میلوں دور تک صحرا ہریالی سے بھرا ہوا تھا اور زمرد کی طرح سبز دکھائی دے رہا تھا۔ یہ منظر فطرت کی تازگی، زندگی اور خوشحالی کو ظاہر کرتا ہے، جو عام حالات میں ایک خوشگوار کیفیت پیدا کرتا ہے۔
تیسرے مصرعے میں شاعر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر خشک اور تر چیز پر یکساں طور پر سایہ فگن تھی۔ یعنی پوری کائنات اس کی نعمتوں سے فیضیاب ہو رہی تھی اور ہر طرف اس کی عنایت نظر آ رہی تھی۔
لیکن چوتھے مصرعے میں میر انیس اچانک ایک دردناک حقیقت بیان کرتا ہے کہ اس قدر نعمتوں کے باوجود “دُرِ دریائے احمدیؐ” یعنی حضور اکرم ؐ ہے۔
پانچویں مصرعے میں میر انیس واضح کرتے ہیں کہ نہرِ فرات کو خود امتِ رسولؐ نے روک رکھا تھا۔ یعنی وہی لوگ جو حضور ؐ کے ماننے والے تھے، انہوں نے ان کے نواسوں پر پانی بند کر دیا۔ یہ ایک نہایت افسوسناک اور ظلم پر مبنی حقیقت ہے۔
آخری مصرعے میں شاعر اس تضاد کو انتہائی مؤثر انداز میں بیان کرتا ہے کہ ایک طرف ہر طرف سبزہ اور ہریالی ہے، لیکن دوسری طرف حضرت فاطمہؑ کی اولاد (اہلِ بیتؑ) کی “کھیتی” یعنی ان کی زندگی پیاس کی وجہ سے خشک ہو رہی ہے۔
مجموعی طور پر اس بند میں فطرت کی خوبصورتی اور اہلِ بیتؑ کی پیاس کے درمیان شدید تضاد کو پیش کیا گیا ہے، جو قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے اور کربلا کے ظلم کی شدت کو نمایاں کرتا ہے۔
(نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس)
اس پوسٹ میں میر انیس کے تفصیلی مرثیے کے ایک حصے بعنوان “آمدِ صبح” کے حصہ دوم کی تفصیلی تشریح پیش کی جا رہی ہے تاکہ طلبہ اور قارئین اس کے مفہوم کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔
بند 6۔
وہ پھولنا شفق کا وہ مینائے لاجورد
مخمل سی وہ گیاہ، وہ گل سبز و سُرخ و زرد
رکھتی تھی پھونک کر قدم اپنا ہوائے سرد
یہ خوف تھا کہ دامنِ گُل پر پڑے نہ زرد
دھوتا تھا دل کے داغ چمن لالہ زار کا
سردی جگر کو دیتا تھا سبزہ کچھار کا
مشکل الفاظ کے معانی۔
شفق: صبح یا شام کے وقت آسمان کی سرخی
مینائے لاجورد: نیلگوں/نیلے رنگ کا آسمان (لاجورد = نیلا قیمتی پتھر)
گیاہ: گھاس
مخمل سی: نہایت نرم و ملائم
گل سبز و سُرخ و زرد: سبز، سرخ اور زرد رنگ کے پھول
ہوائے سرد: ٹھنڈی ہوا
پھونک کر قدم رکھنا: نہایت آہستگی اور احتیاط سے چلنا
دامنِ گل: پھول کا دامن (استعارہ، یعنی پھول کی نرمی و نزاکت)
زرد: پیلا، مرجھایا ہوا
چمن لالہ زار: پھولوں سے بھرا ہوا باغ
دل کے داغ: غم اور دکھ
سبزہ کچھار: دریا کے کنارے کی ہری بھری زمین
جگر کو سردی دینا: دل کو سکون اور ٹھنڈک پہنچانا
تشریح بند 6۔
شامل نصاب نظم آمد صبح کے اس بند میں میر انیس نے صبح کے حسین، نرم اور نہایت لطیف مناظر کو بڑے نازک اور دلکش انداز میں پیش کیا ہے۔ شاعر سب سے پہلے شفق کی سرخی اور نیلے آسمان کا ذکر کرتے ہیں۔ “مینائے لاجورد” سے مراد نیلا آسمان ہے جو شفق کی سرخی کے ساتھ مل کر ایک نہایت خوبصورت منظر پیدا کرتا ہے۔ یہ رنگوں کا امتزاج فطرت کی دلکشی کو نمایاں کرتا ہے۔ اگلے مصرعے میں شاعر زمین کی ہریالی اور پھولوں کی رنگا رنگی کو بیان کرتا ہے۔ گھاس کو “مخمل” سے تشبیہ دی گئی ہے، جو اس کی نرمی اور ملائمت کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح مختلف رنگوں کے پھول (سبز، سرخ اور زرد) فضا میں حسن اور دلکشی پیدا کر رہے ہیں۔
تیسرے اور چوتھے مصرعے میں شاعر ایک نہایت خوبصورت اور لطیف خیال پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ ٹھنڈی ہوا اس قدر نرمی اور احتیاط سے چل رہی تھی جیسے وہ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہو۔ اسے یہ خوف ہے کہ کہیں اس کی تیزی سے پھولوں کے دامن پر زردی (مرجھاہٹ) نہ آ جائے۔ یہ ایک حسین استعاراتی انداز ہے جس میں ہوا کو ایک حساس اور شعور رکھنے والی شے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
پانچویں مصرعے میں شاعر کہتے ہیں کہ پھولوں سے بھرا ہوا باغ انسان کے دل کے داغ دھو دیتا ہے، یعنی یہ منظر اتنا دلکش اور خوشگوار ہے کہ انسان کے غم اور پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں۔
آخری مصرعے میں میر انیس سبزہ کچھار (دریا کے کنارے کی ہریالی) کا ذکر کر رہے ہیں، جو دل کو ٹھنڈک اور سکون پہنچاتی ہے۔ یہ منظر نہایت پُرسکون اور راحت بخش ہے۔
مجموعی طور پر اس بند میں میر انیس نے فطرت کے حسن، رنگوں کی دلکشی، ہوا کی لطافت اور ماحول کے سکون کو نہایت باریک بینی اور خوبصورت تشبیہوں کے ذریعے پیش کیا ہے، جو قاری کے دل کو مسحور کر دیتا ہے۔
(نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس)
اس پوسٹ میں میر انیس کے تفصیلی مرثیے کے ایک حصے بعنوان “آمدِ صبح” کے حصہ دوم کی تفصیلی تشریح پیش کی جا رہی ہے تاکہ طلبہ اور قارئین اس کے مفہوم کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔
بند 7۔
تھا بس کہ روزِ قتل ِ شہِ آسماں جنابؑ
نکلا تھا خوں ملے ہوئے چہرے پہ آفتاب
تھی نہرِ علقمہ بھی خجالت سے آب آب
روتا تھا پُھوٹ پُھوٹ کے دریا میں ہر حباب
پیاسی تھی سپاہِ خدا تین رات کی
ساحل سے سر پٹکتی تھیں موجیں فرات کی
مشکل الفاظ کے معانی۔
روزِ قتل: شہادت کا دن
شہِ آسماں جنابؑ: عظیم ہستی، یہاں امام حسینؑ مراد ہیں
آفتاب: سورج
خوں ملے ہوئے چہرے: خون آلود (سرخی مائل) چہرہ
نہرِ علقمہ: دریائے فرات کی ایک شاخ
خجالت: شرمندگی
آب آب ہونا: شرمندگی سے پانی پانی ہونا
حباب: پانی کے بلبلے
پُھوٹ پُھوٹ کر رونا: شدتِ غم سے زار و قطار رونا
سپاہِ خدا: امام حسینؑ کے ساتھی
ساحل: کنارہ
سر پٹکنا: شدتِ غم یا بے بسی میں سر مارنا
موجیں فرات کی: دریائے فرات کی لہریں
تشریح بند 7۔
شامل نصاب میر انیس کے مرثیے ، نظم آمد صبح کے اس آخری بند میں میر انیس نے کربلا کے المناک واقعے کو انتہائی درد انگیز اور اثر انگیز انداز میں بیان کیا ہے۔ شاعر سب سے پہلے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ وہ دن ہے جب “شہِ آسماں جنابؑ” یعنی امام حسینؑ کی شہادت ہونے والی ہے۔ امام حسینؑ کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے انہیں “شہِ آسماں” کہا گیا ہے، جو ان کے بلند مقام اور روحانی مرتبے کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں سورج کے طلوع ہونے کو ایک علامتی انداز میں بیان کیا گیا ہےکہ سورج اس طرح طلوع ہوا جیسے اس کا چہرہ خون میں ڈوبا ہوا ہو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آنے والا دن خونریزی اور المیے سے بھرپور ہے۔ سورج کی سرخی کو خون سے تشبیہ دے کر شاعر نے آنے والے سانحے کی شدت کو نمایاں کیا ہے۔ اس کے بعد نہرِ علقمہ کا ذکر ہے، جو گویا اس ظلم پر شرمندہ ہے۔ “آب آب ہونا” سے مراد شدید شرمندگی ہے، یعنی دریا بھی اس بات پر نادم ہے کہ اس کا پانی امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں تک نہیں پہنچ رہا۔
میر انیس کی نظم آمد صبح کے اس بند کے چوتھے مصرعے میں شاعر ایک اور خوبصورت مگر دردناک منظر پیش کرتے ہیں کہ دریا کے بلبلے بھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہے ہیں۔ یہ ایک استعاراتی انداز ہے جس میں بے جان چیزوں کو بھی غمزدہ دکھایا گیا ہے، تاکہ واقعے کی شدت کو مزید بڑھایا جا سکے۔ اس کے بعد شاعر امام حسینؑ کی سپاہ کی حالت بیان کرتے ہیں کہ وہ تین دن سے پیاسی ہے۔ یہ پیاس صرف جسمانی تکلیف نہیں بلکہ ایک عظیم آزمائش اور صبر کی علامت ہے۔ اور آخری مصرعے میں میر انیس کہتے ہیں کہ دریائے فرات کی موجیں بھی ساحل سے ٹکرا ٹکرا کر سر پٹک رہی ہیں، گویا وہ بھی اس ظلم پر غمزدہ اور بے بس ہیں۔
مجموعی طور پر اس بند میں میر انیس نے کربلا کے المیے، امام حسینؑ کی عظمت، اور فطرت کی ہر شے کے غمزدہ ہونے کو نہایت مؤثر اور دل سوز انداز میں پیش کیا ہے، جو قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
(نظم آمد صبح تشریح -مرثیہ میر انیس)
اس پوسٹ میں میر انیس کے تفصیلی مرثیے کے ایک حصے بعنوان “آمدِ صبح” کے حصہ دوم کی تفصیلی تشریح پیش کی جا رہی ہے تاکہ طلبہ اور قارئین اس کے مفہوم کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ مزید تشریحات کے لیے ہماری ویب سائیٹ علمو ملاحظہ کیجیے۔ اور جماعت دہم کے مزید اردو نوٹس ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)
اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں
اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔ تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔ (علمو) اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمارے فیس بک ، وٹس ایپ ، ٹویٹر، اور ویب پیج کو فالو کریں، اور نئی آنے والی تحریروں اور لکھاریوں کی کاوشوں سے متعلق آگاہ رہیں۔
Follow us on
Discover more from Ilmu علمو
Subscribe to get the latest posts sent to your email.