علامہ اقبال کی غزل ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

علامہ اقبال کی غزل ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

علامہ محمد اقبال کی غزل “ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں” اردو ادب کی ایک مشہور اور متاثر کن غزل ہے۔ اس غزل میں شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے انسان کو بلند حوصلہ، مسلسل جدوجہد اور کامیابی کی جستجو کا پیغام دیا ہے۔ اقبال کی شاعری کا خاصہ یہ ہے کہ وہ نوجوانوں میں خود اعتمادی اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔
یہاں آپ علامہ اقبال کی غزل ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں کا مکمل متن آسان اور واضح انداز میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہ نظم طلبہ کے لیے نہایت اہم ہے اور مختلف تعلیمی بورڈز کے نصاب میں شامل ہے۔ اگلے پوسٹ میں اس غزل کی تشریح بھی پیش کی گئی ہے۔ اگر آپ اس نظم کی تشریح، خلاصہ یا سوالات بھی پڑھنا چاہتے ہیں تو وہ بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
کی صورت میں اردو  کے نصاب میں شامل ہے۔FBISE Class 12 (Second Year) Urdu Ghazal یہ غزل

علامہ اقبال کی غزل ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
علامہ اقبال کی غزل ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
علامہ اقبال کی غزل ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں

قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں

اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں

یہاں آپ علامہ اقبال کی غزل ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں کا مکمل متن آسان اور واضح انداز میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہ نظم طلبہ کے لیے نہایت اہم ہے اور مختلف تعلیمی بورڈز کے نصاب میں شامل ہے۔ اگلے پوسٹ میں اس غزل کی تشریح بھی پیش کی گئی ہے۔ اگر آپ اس نظم کی تشریح، خلاصہ یا سوالات بھی پڑھنا چاہتے ہیں تو وہ بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
 کی صورت میں اردو  کے نصاب میں شامل ہے۔FBISE Class 12 (Second Year) Urdu Ghazal یہ غزل

Allama Iqbal ki Ghazal Sitaron Se Aagay Jahan Aur Bhi Hain

Sitaron se aagay jahan aur bhi hain
Abhi ishq ke imtehan aur bhi hain

Tehi zindagi se nahin yeh fazaen
Yahan saikron karwan aur bhi hain

Qanaat na kar aalam-e-rang-o-boo par
Chaman aur bhi, aashiyan aur bhi hain

Agar kho gaya ek nasheman to kya gham
Maqamat-e-aah-o-fughan aur bhi hain

Tu shaheen hai, parwaaz hai kaam tera
Tere saamne aasman aur bhi hain

Isi roz-o-shab mein ulajh kar na reh ja
Ke tere zaman-o-makan aur bhi hain

Gaye din ke tanha tha main anjuman mein
Yahan ab mere raazdan aur bhi hain

یہاں آپ علامہ اقبال کی غزل ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں کا مکمل متن آسان اور واضح انداز میں پڑھ سکتے ہیں۔ یہ نظم طلبہ کے لیے نہایت اہم ہے اور مختلف تعلیمی بورڈز کے نصاب میں شامل ہے۔ اگلے پوسٹ میں اس غزل کی تشریح بھی پیش کی گئی ہے۔ اگر آپ اس نظم کی تشریح، خلاصہ یا سوالات بھی پڑھنا چاہتے ہیں تو وہ بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
 کی صورت میں اردو  کے نصاب میں شامل ہے۔FBISE Class 12 (Second Year) Urdu Ghazal یہ غزل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)

اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں

اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔  تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔ (علمو) اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر  معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمارے فیس بک ، وٹس ایپ ، ٹویٹر، اور ویب پیج کو فالو کریں، اور نئی آنے والی تحریروں اور لکھاریوں کی کاوشوں  سے متعلق آگاہ رہیں۔

Follow us on


Discover more from Ilmu علمو

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

error: Content is protected !!
Index