محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کی تشریح

Table of Contents

محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کی تشریح

محسن احسان اردو کے ممتاز جدید غزل گو شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم تھے۔ ان کی غزل گوئی میں روایت اور جدیدیت کا حسین امتزاج ہے۔ ان کے کلام میں رومانویت، عصری کرب، سماجی شعور، قناعت، آزادیِ فکر اور ذاتی و اجتماعی درد کا خوبصورت بیان ملتا ہے۔ انگریزی ادب کے گہرے مطالعے کے باوجود وہ کلاسیکی اردو اور فارسی شاعری کے شیدائی تھے، اسی لیے ان کی غزلوں میں سادگی، سلاست، فنی رچاؤ اور گہرائی ایک ساتھ موجود ہے۔
محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے ان کی ایک خوبصورت تخلیق ہے جو ماضی کی خوشیوں کی حسرت، فکری آزادی، رزقِ حلال، تازگیٔ خیال اور امید کی روشنی کی تڑپ کو نہایت دل کش انداز میں بیان کرتی ہے۔ محسن احسان ؔ  کی یہ خوبصورت غزل نئی اردو غزل کی ایک شاندار مثال ہے۔ یہ غزل محبت، حسرت، امید، خودشناسی اور زندگی کی حقیقتوں کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔
اس پوسٹ میں محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کی تشریح پیش کی جا رہی ہے۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔

محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کی تشریحmohsin ehsan
محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کی تشریح

محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کی تشریح

شعر 1۔

وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے جو نشاطِ شام وصال دے
جو پلک جھپک میں گزر گئے مجھے پھر وہی مہ و سال دے

مشکل الفاظ۔      نشاط: خوشی، مسرت            شامِ وصال: محبوب سے ملاقات کی شام             مہ و سال: مہینے اور سال
تشریح شعر 1۔

محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کے اس تشریح طلب شعر میں شاعر محسن احسان ماضی کی خوشگوار یادوں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ایک شدید خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ اے کاش وہی حسین لمحات دوبارہ لوٹ آئیں۔ “وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے” سے مراد یہ ہے کہ شاعر محسن احسان چاہتے ہیں کہ اس کے دل و دماغ میں وہی خوبصورت تصورات اور یادیں پھر سے زندہ ہو جائیں جو اسے خوشی اور سکون فراہم کرتی تھیں۔ خاص طور پر شام کے وقت میں محبوب کے وصل کے لمحات کی کیفیت۔ “نشاطِ شامِ وصال” ایک ایسی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جب محبوب سے ملاقات کا وقت ہوتا ہے اور دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔

محسن احسان کی غزل کے مطلع کے دوسرے مصرعے میں شاعر وقت کی بے ثباتی اور تیزی سے گزرنے کا شکوہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ خوبصورت لمحے، جو پلک جھپکتے ہی گزر گئے، دوبارہ لوٹا دیے جائیں۔ “مہ و سال” کا ذکر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ شاعر صرف چند لمحوں کی نہیں بلکہ ایک پورے خوشگوار دور کی واپسی چاہ رہے ہیں۔
یہ شعر دراصل انسانی فطرت کی اس کمزوری کو ظاہر کرتا ہے کہ انسان ہمیشہ ماضی کی خوبصورت یادوں کو یاد کرتا ہے اور انہیں دوبارہ حاصل کرنے کی آرزو رکھتا ہے۔ اس میں ایک ہلکا سا کرب بھی موجود ہے کیونکہ وقت کبھی واپس نہیں آتا۔

محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے ان کی ایک خوبصورت تخلیق ہے جو ماضی کی خوشیوں کی حسرت، فکری آزادی، رزقِ حلال، تازگیٔ خیال اور امید کی روشنی کی تڑپ کو نہایت دل کش انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس پوسٹ میں محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کی تشریح پیش کی جا رہی ہے۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔

شعر 2۔

 یہ گدا گروں کی ہیں بستیاں یہاں چشم پوشی گناہ ہے
تو امیرِ شہرِ جمال ہے تو زکوٰۃِ حسن و جمال دے

مشکل الفاظ۔      گدا گر: فقیر، محتاج              چشم پوشی: نظر انداز کرنا                   امیرِ شہرِ جمال: حسن کا مالک (محبوب)   زکوٰۃِ حسن: حسن کی خیرات
تشریح شعر 2۔

محسن احسان غزل کے تشریح طلب اس شعر میں معاشرتی اور جذباتی سطح پر ایک خوبصورت استعارہ استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔  وہ کہتے ہیں کہ یہ دنیا گویا محتاجوں کی بستی ہے جہاں ہر شخص کسی نہ کسی چیز کا طلبگار ہے۔ یہاں “گدا گر” صرف مالی محتاجی کی علامت نہیں بلکہ جذباتی اور روحانی کمی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ شاعر کے مطابق ایسے ماحول میں کسی کو نظر انداز کرنا ایک گناہ کے مترادف ہے۔

شعر کے دوسرے مصرعے میں محسن احسان پچھلے مصرعے سے بات جوڑتے ہوئے محبوب کے حُسن کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ محبوب کو “امیرِ شہرِ جمال” کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، یعنی وہ حسن اور خوبصورتی کا مالک ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے حسن کی زکوٰۃ دے، یعنی اپنی محبت، توجہ اور عنایت کا کچھ حصہ دوسروں پر بھی نچھاور کرے۔
یہ شعر دراصل محبت کی طلب، انسانی ضرورت اور حسن کے تقاضوں کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر یہ پیغام دیتا ہے کہ جس کے پاس کوئی نعمت ہو، اسے دوسروں کے ساتھ بانٹنا چاہیے، چاہے وہ حسن ہو، محبت ہو یا توجہ۔

شعر 3۔

مجھے شوق سیرِ سما نہیں میں اسیرِ حرص و ہوا نہیں
میں قفس میں عمر گزار دوں وہ ضمانتِ پر و بال دے

مشکل الفاظ۔       سیرِ سما: آسمان کی سیر، آزادی             اسیر: قیدی          حرص و ہوا: لالچ اور خواہشات   قفس: پنجرہ          ضمانتِ پر و بال: پر اور بال کی ضمانت (اڑنے کی آزادی)
تشریح شعر 3۔

غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈالے دے کے اس تشریح طلب شعر میں شاعر محسن احسان اپنی فکری خودداری اور قناعت کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ انہیں آسمانوں کی سیر یا بلند پروازی کا کوئی شوق نہیں ہے، اور نہ ہی وہ دنیاوی لالچ اور خواہشات کا غلام ہے۔ “حرص و ہوا” سے مراد وہ خواہشات ہیں جو انسان کو بے چین اور بے سکون رکھتی ہیں، مگر شاعر ان سے خود کو آزاد قرار دیتا ہے۔
اگلے مصرعے میں محسن احسان ایک گہرا استعارہ پیش کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ وہ قفس (پنجرے) میں رہنے پر بھی تیار ہے، لیکن اس کے بدلے اسے “پر و بال” کی ضمانت چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بظاہر قید کو قبول کر سکتا ہے، مگر اپنی اصل آزادی، یعنی سوچ، خودی اور صلاحیتوں کو کھونا نہیں چاہتا۔
یہ شعر دراصل ایک باوقار شخصیت کی نمائندگی کرتا ہے جو ظاہری پابندیوں کے باوجود اپنی اندرونی آزادی کو قائم رکھنا چاہتی ہے۔

محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے ان کی ایک خوبصورت تخلیق ہے جو ماضی کی خوشیوں کی حسرت، فکری آزادی، رزقِ حلال، تازگیٔ خیال اور امید کی روشنی کی تڑپ کو نہایت دل کش انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس پوسٹ میں محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کی تشریح پیش کی جا رہی ہے۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔

شعر 4۔

مرا غم شناس کوئی تو ہے مرے آس پاس کوئی تو ہے
مرے حرف کو جو خلوص دے مرے لفظ کو جو کمال دے

مشکل الفاظ۔       غم شناس: غم کو سمجھنے والا       خلوص: سچائی، اخلاص          کمال: خوبی، خوبصورتی
تشریح شعر 4۔

محسن احسان کی غزل  وہی خواب آنکھوں میں ڈالے دے کے اس شعر میں تنہائی اور سمجھنے والے ساتھی کی خواہش کو بیان کیا جا رہا ہے۔ شاعر محسن احسان امید ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے آس پاس کوئی ایسا شخص ضرور موجود ہے جو ان کے دکھ کو سمجھ سکے۔ یہاں غم شناس سے مراد وہ ہمدرد انسان ہے جو شاعر کے جذبات کی گہرائی کو محسوس کر سکے۔ یعنی ایک سچا ، مخلص، ہمدرد، جو غم شناس ہو ۔
اس کے بعد دوسرے مصرعے میں شاعر اپنی تخلیقی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا ہو جو اس کے الفاظ میں خلوص پیدا کرے اور انہیں کمال تک پہنچا دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاعر اپنے خیالات کو بہتر انداز میں پیش کرنے کے لیے ایک ایسے ساتھی یا رہنما کی تلاش میں ہے جو اس کی رہنمائی کرے۔ یہاں انسان کے دکھ درد کا مداوا کرنے والے انسان کی خواہش کی ساتھ یہ خوہش بھی کی جا رہی ہے کہ جو شکص بھی زندگی میں آئے وہ نہ صرف میرے دکھ دور کر دے بلکہ مجھے اور میرے فنی کمالات کو مزید کمال اور نکھار عطا کر دے۔ یہ شعر انسانی تعلقات کی اہمیت اور تخلیقی عمل میں سچی سمجھ بوجھ کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔

شعر 5۔

تجھے زعمِ خود نگری سہی مجھے فخرِ قربِ حبیب ہے
میں ہوں عکس عکس میں جلوہ گر مجھے آئینوں سے نکال دے

مشکل الفاظ۔       زعم: غرور           خود نگری: خود کو دیکھنا/خود پسندی      قربِ حبیب: محبوب کی نزدیکی       عکس: عکس، عکسِ تصویر        جلوہ گر: ظاہر ہونا
تشریح شعر 5۔

غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈالے دے کے اس تشریح طلب شعر میں شاعر محسن احسان اپنے محبوب کے غرور اور  اس کے ساتھ ساتھ اپنی عاجزی کا موازنہ پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر محبوب کو اپنی خوبصورتی پر غرور ہے تو اُنہیں بھی اپنے محبوب کی قربت پر فخر ہے۔ یہاں شاعر اپنی محبت کو ایک عظیم اعزاز کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ نیز شاعر محسن احسان کہتے ہیں کہ وہ ہر عکس میں جلوہ گر ہیں، یعنی  وہ ہر جگہ اپنی محبت کا اظہار دیکھتے ہیں۔ لیکن وہ اس کیفیت سے نکلنا چاہتے ہیں اور محبوب سے درخواست کرتا ہے کہ محبوب اُنہیں اِن تمام آئینوں کی دنیا سے نکال دے۔
یہ شعر محبت کی شدت اور اس کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے، جہاں انسان ہر جگہ محبوب کو محسوس کرتا ہے۔

محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے ان کی ایک خوبصورت تخلیق ہے جو ماضی کی خوشیوں کی حسرت، فکری آزادی، رزقِ حلال، تازگیٔ خیال اور امید کی روشنی کی تڑپ کو نہایت دل کش انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس پوسٹ میں محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کی تشریح پیش کی جا رہی ہے۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔

شعر 6۔

وہی تیرگی کی رویتیں وہی ظلمتوں کی حکایتیں
تو وکیلِ صبحِ حیات ہے کوئی روشنی کی مثال دے

مشکل الفاظ۔       تیرگی: اندھیرا       رویتیں: مناظر      ظلمت: گہرا اندھیرا             وکیلِ صبحِ حیات: زندگی کی صبح کا نمائندہ
تشریح شعر 6۔

شاعر محسن احسان غزل کے اس شعر میں یہ بتاتے ہیں کہ ہر طرف اندھیرے اور مایوسی کے مناظر ہیں۔ زندگی میں روشنی اور امید کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ اندھیرا صرف ظاہری نہیں بلکہ ذہنی اور روحانی بھی ہے۔ دوسرے مصرعے میں وہ اپنے مخاطب سے درخواست کرتے ہیں کہ چونکہ وہ (مخاطب) زندگی کی روشنی کا نمائندہ ہے، اس لیے وہ کوئی مثال پیش کرے جو روشنی اور امید پیدا کرے۔ یہ شعر امید، رہنمائی اور مثبت تبدیلی کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔

شعر 7۔

نہ ہے چاہ منصب و جاہ کی نہ ہوس ہے تخت و کلاہ کی
میں غریب ہوں تو غیور رکھ مجھے صرف رزقِ حلال دے

مشکل الفاظ۔       منصب و جاہ: عہدہ اور عزت              تخت و کلاہ: بادشاہت اور اقتدار             غیور: باعزت، خوددار          رزقِ حلال: جائز روزی
تشریح شعر 7۔

غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کا یہ شعر ، دنیاوی خواہشات سے بے نیازی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس شعر میں شاعر محسن احسان کہتے ہیں کہ اُنہیں نہ کسی عہدے کی خواہش ہے اور نہ ہی اقتدار کی۔ وہ سادہ زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ساتھ ساتھ وہ اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اگرچہ وہ ایک غریب انسان ہیں ، لیکن انہیں باعزت اور خوددار رکھا جائے، اور اسے صرف حلال روزی عطا کی جائے۔
یہ شعر قناعت، خودداری اور دیانت داری کا درس دیتا ہے۔ یہ شعر علامہ اقبال کے شعر کی مصداق ہے
اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے ان کی ایک خوبصورت تخلیق ہے جو ماضی کی خوشیوں کی حسرت، فکری آزادی، رزقِ حلال، تازگیٔ خیال اور امید کی روشنی کی تڑپ کو نہایت دل کش انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس پوسٹ میں محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کی تشریح پیش کی جا رہی ہے۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔

شعر 8۔

مری سوچ میں نئے موسموں کی شگفتگی کی شمیم ہو
میں اسیرِ فکرِ قدیم ہوں مجھے تازگیِ خیال دے

مشکل الفاظ۔       شگفتگی: تازگی، خوشی            شمیم: خوشبو          اسیرِ فکرِ قدیم: پرانی سوچ میں قید
تشریح شعر 8۔

غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کے اس شعر میں شاعر اپنی  سوچ کی تازگی اور توانائی کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ اپنی ذہنی کیفیت  و حالت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ پرانی سوچ میں قید ہیں اور اس قدیم سوچ کی پابندیوں اور قید سے نکلنا چاہتے ہیں۔ وہ نئی سوچ، تازگی اور جدت کی خواہش رکھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
محسن احسان غزل کے اس شعر میں دعا اور خواہش کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کے خیالات میں نئے موسموں جیسی تازگی اور خوشبو آ جائے، تاکہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیت کو بہتر بنا سکے۔

شعر 9۔

ہے دعائے محسنؔ بے نوا کہ نگارِ شعر کو ہو عطا
وہ چمک جو تابشِ مہر دے وہ مہک جو نافِ غزال دے

مشکل الفاظ۔       بے نوا: عاجز، بے بس           نگارِ شعر: شاعری کی خوبصورتی             تابشِ مہر: سورج کی روشنی     نافِ غزال: مشک (خوشبو)
تشریح شعر 9۔

محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کا تشریح طلب مقطع (آخری شعر) سابقہ شعر ہی کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔  اس شعر میں شاعر اپنی عاجزی کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ ان کی شاعری کو خوبصورتی اور اثر عطا ہو۔ اُن کی شاعری ، تخلیقی عمل اور فن میں کمال پیدا ہو جائے۔ محسن احسان  تابسِ مہر اور نافِ غزل کے الفاظ کو تشبیہ  دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ان کی خواہش یہ ہے کہ ان کے اشعار میں سورج جیسی چمک اور مشک جیسی خوشبو ہو۔
محسن احسان کی پوری غزل کی طرح غزل  کا یہ آخری شعر  بھی تخلیقی کمال، دعا اور عاجزی کا حسین امتزاج ہے۔

محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے ان کی ایک خوبصورت تخلیق ہے جو ماضی کی خوشیوں کی حسرت، فکری آزادی، رزقِ حلال، تازگیٔ خیال اور امید کی روشنی کی تڑپ کو نہایت دل کش انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس پوسٹ میں محسن احسان کی غزل وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے کی تشریح پیش کی جا رہی ہے۔ مزید معلومات، غزلیات، تشریحات اور تخلیقات کے لیے ہمارا ویب پیج علمو ملاحظہ کیجیے۔ بارہویں جماعت کے اردو نوٹس کے لیے کلک کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

We offer you our services to Teach and Learn Languages, Literatures and Translate. (Urdu, English, Bahasa Indonesia, Hangul, Punjabi, Pashto, Persian, Arabic)

اس آرٹیکل کو بہتر بنانے میں ہماری مدد کریں

اگر آپ کو اس آرٹیکل میں کوئی غلطی نظر آ رہی ہے۔  تو درست اور قابلِ اعتبار معلومات کی فراہمی میں ہماری مدد کریں۔ ہم درست معلومات کی ترسیل کے لیے سخت محنت کرتے ہیں ۔ (علمو) اگر آپ بھی ہمارے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہماری اس کمیونٹی میں شامل ہو کر  معلومات کے سلسلے کو بڑھانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمارے فیس بک ، وٹس ایپ ، ٹویٹر، اور ویب پیج کو فالو کریں، اور نئی آنے والی تحریروں اور لکھاریوں کی کاوشوں  سے متعلق آگاہ رہیں۔

Follow us on


Discover more from Ilmu علمو

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply

error: Content is protected !!

Table of Contents

Index